پرائیویٹ لیبارٹریوں کی ڈینگی ٹیسٹ کے نام پر لوٹ مار
اسلام آباد (وی این آئی) جڑواں شہروں میں ڈینگی فیور کی تشخیص کے نام پر پرائیویٹ لیبارٹریوں نے لوٹ مار کا سلسلہ شروع کردیا ۔
حکومتی سطح پر لیبارٹری ٹیسٹ کی فیس کا کوئی نظام نہ ہونے کی وجہ سے مجبور شہری مفاد پرست ٹولے کے ہاتھوں لٹنے لگے شہر بھر میں قائم پرائیویٹ لیبارٹریز ڈینگی فیور کے ٹیسٹ فیس 1500 سے 3 ہزار روپے وصول کررہی ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں ابتدائی تشخیص کی سہولت ہونے کے باوجود ڈاکٹر مریضوں کوڈینگی ٹیسٹ کیلئے پرائیویٹ لیبارٹریوں کی طرف بھیج دیتے ہیں۔
سرکاری ہسپتالوں میں ڈینگی ٹیسٹ کیلئے آنے والوں کی طویل قطاریں لوگوں کو کئی گھنٹے لائنوں میں کھڑے ہوکر خون کے نمونے سرکاری لیبارٹریوں میں جمع کرانے پر صرف ہوتے ہیں اور پھر رپورٹ کیلئے ایک دن لگ جاتا ہے۔
فوری ٹیسٹ رپورٹ کے نام پرمجبور مریضوں سے بھاری فیس وصول کی جارہی ہے۔وفاقی اور صوبائی انتظامیہ کی طرف سے متاثرین کو مفت طبی اور تشخیصی سہولیات کے اعلانات صرف بیان بازی تک ہی محدود ہیں۔
صرف اسلام آباد اورراولپنڈی میں روزانہ درجنوں افراد ڈینگی فیور کے حملے کے شبہ میں پرائیویٹ لیبارٹریوں کا رخ کررہے ہیں جس کا مقصد یہاں سے جلد از جلد تشخیصی رپورٹ حاصل کی جاسکے۔
ڈینگی بخارسے متعلق شہریوں میں بڑھتے ہوئے خوف سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نان کوالیفائیڈ لوگوں نے بھی ڈینگی بخار کے ٹیسٹ کرنا شروع کر دیئے ہیں اورگردو نواح کے علاقوں میں لیبارٹریز ٹیکنیشنز کی طرف سے عام بخار کو بھی ڈینگی ظاہر کر کے عوام کو پریشان کیا جارہا ہے۔