آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر پر حملہ، ایران اور امریکہ کے متضاد دعوے
آبنائے ہرمز اور خلیج عمان کے قریب ایک آئل ٹینکر پر ہوا ہے جس پر ایران اور امریکہ کے درمیان ایک بار پھر الزامات کا تبادلہ شروع ہو گیا ہے۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ متعلقہ آئل ٹینکر امریکی بحریہ کی حمایت سے آبنائے ہرمز میں عمان کے راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا، جس کے بعد اسے نشانہ بنایا گیا، مبینہ طور پر جہاز کو متعدد بار انتباہ کیا گیا تاہم اس نے ہدایات پر عمل نہیں کیا، اس دعوے کی ایران کے کسی سرکاری عہدیدار نے نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید کی ہے۔
ایران ماضی میں یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں عمان کی جانب سے گزرنے والے جنوبی بحری راستے پر سفر کرنے والے تمام جہازوں کو ایرانی فوج کے ساتھ پیشگی رابطہ اور ہم آہنگی کرنی چاہئے۔
دوسری جانب امریکی حکام نے ایران پر حملے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ خلیج عمان کے قریب ایک تجارتی آئل ٹینکر پر نامعلوم میزائل نما ہتھیار سے حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ لگ گئی، ایک دوسرا تجارتی جہاز بھی حملے کی زد میں آیا، جس سے دونوں بحری جہازوں کو نمایاں نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ابھی تک اس واقعہ کی آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی، جبکہ ایران کی جانب سے امریکی الزامات پر بھی کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا گیا۔