شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ ادا کردی گئی
تہران: ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کی نمازِ جنازہ ادا، لاکھوں افراد نےشرکت کی
ایران کے دارالحکومت تہران میں شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کی نمازِ جنازہ گرینڈ مصلیٰ کمپلیکس میں ادا کر دی گئی ہے۔ نمازِ جنازہ میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، سپیکر باقر قالیباف سمیت اعلیٰ حکومتی و عسکری عہدیداروں اور 100 سے زائد ممالک کے وفود سمیت لاکھوں سوگواروں نے شرکت کی، جس کی وجہ سے تہران کی فضا انتہائی سوگوار اور ہر آنکھ اشکبار تھی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق شہید سپریم لیڈر اور ان کے خاندان کی نمازِ جنازہ معروف مذہبی شخصیت آیت اللہ جعفر سبحانی نے پڑھائی۔ نمازِ جنازہ کی ادائیگی تین الگ الگ مراحل میں کی گئی، جس کے پہلے مرحلے میں رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای، دوسرے مرحلے میں ان کی بیٹی بشریٰ خامنہ ای، داماد مصباح الہدیٰ باقری اور بہو زہرا حداد عادل، جبکہ تیسرے مرحلے میں شہید سپریم لیڈر کی کمسن نواسی زہرا محمدی کا جنازہ پڑھایا گیا۔
شہید سید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ میں 3 بیٹوں کی شرکت، مجتبیٰ خامنہ ای شریک نہیں ہوئے

تہران میں شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ میں ان کے تین بیٹوں مصطفیٰ خامنہ ای، میثم خامنہ ای اور مسعود خامنہ ای نے شرکت کی تاہم ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سکیورٹی وجوہات کے باعث منظرِ عام پر نہیں آئے۔
گرینڈ مصلیٰ کے بڑے صحن میں جمع ہزاروں سوگواروں نے ہاتھوں میں سرخ جھنڈے اٹھا رکھے تھے، جنہیں ایران میں خون کا بدلہ اور انتقام لینے کی علامت سمجھا جاتا ہے، اور وہاں موجود لوگ مسلسل ’امریکا مردہ باد‘ اور ’انتقام، انتقام‘ کے فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے جس سے پوری فضا گونج اٹھی۔
آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور ان کے ساتھ شہید ہونے والے اہلِ خانہ کی میتیں اس وقت تہران میں عوامی دیدار کے لیے رکھی گئی ہیں۔ شیڈول کے مطابق پیر کی صبح جنازے کا مرکزی جلوس نکالا جائے گا، جس کے بعد میتوں کو قم منتقل کیا جائے گا اور وہاں سے جسدِ خاکی کو عراقی شہروں نجف اشرف اور کربلائے معلیٰ لے جایا جائے گا۔
بعد ازاں 9 جولائی کو شہید سپریم لیڈر کی ان کے آبائی شہر مشہد مقدس میں تدفین کی جائے گی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کے بعد قم میں نمازِ جنازہ کی امامت آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی کریں گے، جبکہ مشہد میں ان کی آخری نمازِ جنازہ آیت اللہ حسین نوری ہمدانی پڑھائیں گے۔