کاکروچ جنتا پارٹی کا نئی دہلی کی سڑکوں پر پہلا بڑا احتجاج
بھارت میں سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہونے والی نوجوانوں کی منفرد تحریک “کاکروچ جنتا پارٹی نے آن لائن مقبولیت کے بعد پہلی بار نئی دہلی کی سڑکوں پر باقاعدہ احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ ہفتے کے روز نئی دہلی کے مشہور احتجاجی مقام جنتر منتر پر سینکڑوں کی تعداد میں نوجوان اور طلبہ جمع ہوئے، جنہوں نے امتحانات کے پیپرز بار بار لیک ہونے اور تعلیمی نظام کی بدانتظامی کے خلاف شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے فوری استعفے کا مطالبہ کیا۔ شدید گرمی کے باوجود ہونے والے اس احتجاج میں کئی نوجوانوں نے علامتی طور پر کاکروچ کے ماسک پہن رکھے تھے جبکہ کئی طلبہ نے ہاتھوں میں کتابیں اٹھا رکھی تھیں۔
یہ وائرل تحریک گزشتہ ماہ مئی میں اس وقت ایک طنزیہ مذاق کے طور پر شروع ہوئی تھی جب بھارت کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک عدالتی سماعت کے دوران مبینہ طور پر بے روزگار نوجوانوں اور ناقدین کو “کاکروچ” سے تشبیہ دی۔ اگرچہ بعد میں چیف جسٹس نے وضاحت کی کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا تھا، لیکن اس تحریک کے بانی اور بوسٹن یونیورسٹی کے طالب علم ابھیجیت دیپکے نے اس تنقید کو ایک تحریک کی شکل دے دی۔ دیکھتے ہی دیکھتے صرف ایک ماہ کے اندر اس ڈیجیٹل مہم کے فالوورز کی تعداد 22 ملین (2 کروڑ 20 لاکھ) سے تجاوز کر گئی اور اب یہ بے روزگاری اور تعلیمی مسائل کے خلاف نوجوانوں کی آواز بن چکی ہے۔
مظاہرے میں شریک گریجویٹس اور طلبہ کا کہنا تھا کہ ملک میں جہاں 20 سے 29 سال کی عمر کے بے روزگار نوجوانوں میں 67 فیصد گریجویٹس شامل ہیں، وہاں تعلیمی نظام کی یہ بدانتظامی نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کر رہی ہے۔ احتجاج میں شامل بزرگوں اور اساتذہ نے بھی نوجوانوں کے اس جذبے کو سراہا اور اسے پُرصداقت تحریک قرار دیا۔ تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا نوجوان اب حکومت کے خوف سے آزاد ہو کر اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر آ چکا ہے اور یہ احتجاج تعلیمی و سماجی اصلاحات تک جاری رہے گا۔