لندن سے چوری مہنگی گاڑی “بینٹلی ملسن” کراچی سے برآمد
کراچی: پاکستان کسٹمز نے برطانوی خفیہ ایجنسی کی اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے برطانیہ سے چوری ہونے والی “بینٹلی ملسن” نامی مہنگی گاڑی کراچی سے برآمد کرلی۔
لندن سے چوری شدہ یہ گاڑی منظم انداز میں اسمگل کرکے ڈی ایچ اے کراچی کے ایک گھر کے کارپورچ میں کھڑی کی گئی تھی۔
حکام کے مطابق دوست ملک کی ایجنسی نے متعلقہ اداروں کے ذریعے پاکستان کسٹمز کو اطلاع دیتے ہوئے آگاہ کیا تھا کہ انتہائی لگژری گاڑی ڈیفنس کے بنگلے میں پارک ہے۔
پاکستان کسٹمز انفورسمنٹ کلکٹریٹ نے اطلاع ملتے ہی کارروائی کے لئے مقامی سطح پر تحقیقات کیں جس میں اس بات کی تصدیق ہوئی کہ لندن میں چوری ہونے والی گاڑی ڈیفنس میں واقع ایک بنگلے میں پارک ہے۔
لندن سے چوری شدہ بینٹلے کار کراچی سے برآمد یہ ہے کسٹم ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی عام آدمی کی ٹافیوں پر بھی ڈیوٹی لگا دیتے ہیں یا ضبط کر لیتے ہیں۔ pic.twitter.com/36DlqiX4ga
— Nasim Siddiqui (@iNasimSiddiqui) September 3, 2022
کسٹم حکام نے عدالتی حکم کے تحت بنگلے پر چھاپہ مارکر گاڑی برآمد کرکے قبضے میں لے لی ہے اور بنگلے کے مالک سے مذکورہ گاڑی کی درآمدی ودیگر دستاویزات فراہم کرنے کا استفسار کیا لیکن وہ متعلقہ دستاویزات فراہم کرنے میں ناکام رہا جس پر کسٹم حکام نے بنگلے کے مالک اور اسے مذکورہ گاڑی فروخت کرنے والے شخص کو تحویل میں لے لیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ کسٹم حکام نے اسمگلروں کے منظم گروہ کے سرغنہ نوید یامین کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دیدی ہیں۔ مفرور اسمگلر پر محکمہ کسٹمز حیدرآباد اور کراچی کے کلکٹریٹس میں پہلے ہی اسمگلنگ ودیگر بے قاعدگیوں کے متعدد مقدمات درج ہیں۔
کسٹم حکام کا کہنا ہے کہ گاڑی کی جعلسازی کے ذریعے محکمہ ایکسائز سندھ میں رجسٹریشن بھی کرائی گئی ہے اور اس چوری شدہ گاڑی کا رجسٹریشن نمبر BRS-279 ہے۔ محکمہ کسٹم انفورسمنٹ کلکٹریٹ کی درج ایف آئی آر کے مطابق گاڑی کی اسمگلنگ کے ذریعے 30 کروڑ روپے سے زائد کی ٹیکس چوری کی گئی ہے۔
کسٹمز ذرائع نے بتایا کہ مہنگی گاڑی کی رجسٹریشن کے لیے وزارت خارجہ سے فروخت کی اجازت، پاکستان کسٹمز سے این او سی اور ڈیوٹی اور ٹیکس کی ادائیگی کی رسید درکار ہوتی ہے۔