آئینی سقم درست کرنے کی ضرورت
کالم
پنجاب میں وزارت اعلی کے انتخاب کا معاملہ پھر سپریم کورٹ پہنچ چکا ہے جہاں پر اکثریت حاصل کرنے والی اتحادی جماعتیں اپوزیشن بینچوں پر بیٹھی ہیں۔ آئین اپنی جگہ موجود ہے لیکن اس میں بعض شقیں جو نظریہ ضرورت کے تحت ایجاد ہوتی رہتی ہیں آڑے آجاتی ہیں جس کا فائدہ زیادی تر وہی سیاسی پارٹی آٹھاتی ہے جس کے ہاتھ میں اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہو ۔ قومی اسمبلی میں بھی تحریک انصاف سب سے بڑی سیاسی جماعت ہونے کے باوجود اپوزیشن بنچوں پر ہے بلکہ ناتجربہ کاری کی وجہ سے پارلیمنٹ سے ہی نکل کر سڑکوں پر بیٹھ چکی ہے ۔
قانونی ماہرین کے مطابق آئین کے آرٹیکل 63 اے میں ’پارلیمانی پارٹی‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں نا کہ ’پارلیمانی پارٹی کا سربراہ‘ یا ’پارٹی ہیڈ‘ کے۔’ممبران نے کس کو ووٹ دینا ہے کس کو نہیں دینا، آئین میں لکھے گئے الفاظ کے مطابق اس کا فیصلہ ’پارلیمانی پارٹی‘ کرے گی۔ اس کی وضاحت نہیں ہے کہ پارلیمانی پارٹی سے مراد پارٹی ہیڈ ہے یا پارٹی سربراہ یا کچھ اور۔’اس سے جو مطلب واضح ہوتا ہے وہ یہ کہ پارلیمانی پارٹی سے جمہوری انداز میں اکثریتی فیصلہ حاصل کیا جائے اور وہی حتمی فیصلہ ہو گا۔ پارلیمانی پارٹی کا سربراہ بذات خود اکیلے یہ فیصلہ نہیں کر سکتے۔‘
سپریم کورٹ حمزہ شہباز کو وزارت اعلی کے منصب کیلئے اہل قرار دے بھی دیتی ہے تو کیا وہ پارلیمنٹ میں اکثریتی رائے کے تحت قانون سازی کے عمل کو آگے بڑھا سکیں گے۔ہر معاملہ منجمند ہو کر رہ جائے گا ۔ آج کی پریشان حال عوام جو مہنگائی اور عدم تحفظ کا شکار ہیں اپنے منتخب نمائنوں کو آپس میں دست وگریباں ہی دیکھیں گے۔ درست فیصلوں کی ضرورت ہے جس کیلئے تمام اسٹیک ہولڈر زکومضبوظ جمہوری پاکستان کیلئے آگے بڑھنا ہوگا ۔ ملک میں جمہوریت مضبوط ہو تو معاشی حالت خود بہتر ہوجائے گی۔