راولپنڈی،حنا جاوید کے بہیمانہ قتل کی تحقیقات میں اہم پیش رفت
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے عسکری اپارٹمنٹس میں خاتون حنا جاوید کے مبینہ بہیمانہ قتل کے معاملے میں پولیس نے مقتولہ کے شوہر فیصل اصغر امام اور ایک ملازم کو باقاعدہ گرفتار کر لیا ہے، جبکہ دونوں ملزمان کو ڈیوٹی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کر کے 3 روز کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا۔
سی پی او راولپنڈی حسن مشتاق سکھیرا نے واقعے کی شفاف تفتیش کے لیے ایس ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں 7 رکنی اعلیٰ سطحی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ پولیس اور فرانزک ماہرین نے جائے وقوعہ کا تقریباً 6 گھنٹے تک تفصیلی معائنہ کر کے مبینہ آلۂ قتل، پھندے کے لیے استعمال ہونے والی تار اور کپڑوں سمیت 19 مختلف اشیاء کے پارسل تیار کیے ہیں، جبکہ مقتولہ اور ملزمان کے موبائل فونز تحویل میں لے کر گرفتار ملزمان کا ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
راولپنڈی میں شوہر نےملازم اور والد کے ساتھ ملکر بیوی کو قتل کردیا۔
یاد رہے کہ سال 2025 میں شادی ہو کر آنے والی حنا جاوید کی لاش گھر کے باتھ روم میں پراسرار حالات میں شاور سے تار کے پھندے کے ذریعے آدھی لٹکی ہوئی ملی تھی۔ مقتولہ کے بھائی فہد کی مدعیت میں شوہر، سسر اصغر امام اور ملازم کے خلاف قتل کا مقدمہ درج ہے، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ فرانزک رپورٹ کی موصولی اور مزید تفتیش کے بعد معاملے کے اہم حقائق سامنے آنے کا امکان ہے۔