شہباز شریف اور نواز شریف کی ملاقات،ملکی سیاسی امور پر گفتگو
لاہور میں وزیراعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کے درمیان ایک اہم اور طویل ملاقات ہوئی، جس کی اندرونی تفاصیل سامنے آ گئی ہیں۔ تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والی اس اہم بیٹھک میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی شریک تھیں۔ ملاقات کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی، آئینی اور قانونی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ملاقات کے ایجنڈے میں سرفہرست سپریم کورٹ کا بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقل کرنے سے متعلق فیصلہ رہا۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے میاں نواز شریف کو بانی پی ٹی آئی کے شفا ہسپتال کے بجائے پمز میں طبی معائنے کی وجوہات سے آگاہ کیا۔ اجلاس میں پی ٹی آئی کی جانب سے دائر کردہ توہین عدالت کی درخواست اور اس کے ممکنہ قانونی و سیاسی جواب کے حوالے سے مختلف آپشنز پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
ملاقات کے دوران مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اس وقت کسی نئے سیاسی یا آئینی بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا، اس لیے تمام امور کو تدبر اور قانون کے دائرے میں رہ کر حل کیا جائے۔ اس کے علاوہ بیٹھک میں آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کی نامزدگی کے لیے بھی مختلف ناموں پر غور کیا گیا۔