عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو،فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی شدید عدم استحکام کا شکار ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں جاری کشیدگی بڑھنے کے باعث برطانیہ کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی اہم نفسیاتی حد عبور کر گئی ہے، جو توانائی کے شعبے میں طاری بے یقینی کی واضح عکاسی کرتی ہے۔
تازہ ترین معاشی اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) کی قیمت بڑھ کر 100.56 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت میں بھی مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور وہ 92.05 ڈالر فی بیرل کی سطح پر فروخت ہو رہا ہے۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل بھی 108 ڈالر فی بیرل کی اونچی سطح پر پہنچ گیا ہے، جس نے عالمی سطح پر خریداروں اور معاشی ماہرین کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اس تلاطم کے ساتھ ساتھ قدرتی گیس کی قیمتوں پر بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور قدرتی گیس کی قیمت بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہو گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور خطے میں بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل کشیدگی اگر برقرار رہی تو عالمی توانائی مارکیٹ پر دباؤ مزید بڑھے گا، جس کے اثرات دنیا بھر میں ایندھن اور اشیائے ضرورت کی قیمتوں پر براہ راست پڑھ سکتے ہیں۔