ارشد شریف قتل کیس ، مراد سعید نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی سے دس جواب مانگ لئے
اسلام آباد: فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کی جانب سے بھیجے گئے نوٹس پر تحریک انصاف کے رہنما مراد سعید کا جواب سامنے آگیا۔ مراد سعید نے اپنے جواب میں فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی سے دس سوالوں کے جواب مانگ لئے۔
مراد سعید نے کہا کہ موجودہ حالات اور وفاقی حکومت کے رویے کے تناظر میں ایف آئی اےسے غیرجانبدار،شفاف اور خودمختار انکوائری کی توقع نہیں کی جاسکتی، ارشد شریف کے سرکاری پوسٹ مارٹم کے حوالے سے بھی وفاقی حکومت کا کردار متنازعہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تحقیق کرے کہ شہید ارشد شریف پر 16 سے زائد مقدمات درج کروانے والے مدعیان کون تھے اور ان کے پیچھے کون سے عناصر کارفرما تھے۔
مراد سعید نے کہا کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی سراغ لگائے شہید ارشد شریف کی تحقیقاتی صحافت کس کیلئے خطرہ تھی، پاکستان میں کون شہید ارشد شریف کو دھمکاتا اور ہراساں کرتا تھا، کس نے ان کی دبئی روانگی کی تصاویر جاری کیں۔
مراد سعید کا کہنا تھا کہ سراغ لگایا جائے کہ دبئی کے ہوٹل کی لابی میں کس کی ایما پر ارشد شریف کو دبئی چھوڑنے کا کہا گیا، ۲۳ اکتوبر کو قتل کے فورا بعد کس نے میڈیا میں ان کے قتل کو ایکسیڈنٹ کا رنگ دینے کی کوشش کی؟ وہ کس طاقتور پاکستانی کے خلاف تحقیقاتی رپورٹ مرتب کررہے تھے؟۔
انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کے بعد حکومتی عہدیداران اور ریاستی اداروں کے جانب سے کیونکر عجلت میں حقائق کے برخلاف اور الزامات پر مبنی پریس کانفرنسز کی گئیں؟۔