امریکا اور طالبان حکومت کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ
افغانستان میں طالبان نے 2 برس سے قید امریکی نیوی کے سابق اہلکار کو رہا کردیا۔اس کے بدلے امریکا نے طالبان کے قریبی ساتھی کو طالبان کے حوالے کیا۔
غیرملکی خبرایجنسی کے مطابق مارک فری ریچزافغانستان میں تعمیراتی پروجیکٹس پر کام کررہے تھے جب انھیں 2020 میں طالبان نے اغوا کیا۔
Sources confirmed to @TOLOnews that Hajji Bashar Noorzai was released and handed over to the Islamic Emirate today (Monday) in Kabul airport. He is considered as one of the closest figures to the founder of the Taliban movement, Mullah Mohammad Omar Mujahid. pic.twitter.com/PpZtRX8Bwb
— ZAMEER SAFI – ضمیر ساپی (@zameersafi50) September 19, 2022
فغانستان کے وزیرخارجہ امیر خان متقی نے بتایا کہ طویل مذاکرات کے بعد مارک کو امریکی وفد کے حوالے کردیا گیا۔
انھوں نے بتایا کہ مارک کے بدلے امریکا نے بشار نورزئی کو افغانستان کے حوالے کیا۔ قیدیوں کا یہ تبادلہ کابل ائیرپورٹ پر ہوا۔
بشار نورزئی افغان طالبان کے ساتھی اور جنگجو تھے۔ انھوں نے امریکی جیل میں 17 برس قید کاٹی ہے۔ ان کو ہیروئین اسمگلنگ کے جرم میں امریکا میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ نوے کی دہائی میں بشار نورزئی نے طالبان کو ہتھیاروں سمیت ہرممکن مدد فراہم کی تھی۔