بارکھان واقعہ: گراں ناز کے بچوں کی عبدالرحمان کھیتران کے گھر میں موجودگی کی تصاویروائرل
بارکھان میں قتل کی جانے والی گراں ناز مری کے پانچ مغوی بچوں کی سردار عبدالرحمان کھیتران کے گھر میں موجودگی کی مبینہ تصاویر سامنے آگئیں۔
سامنے آنے والی تصاویر میں سردار عبدالرحمان کھیتران کو بھی دیکھا جاسکتا ہے، سردار عبدالرحمان کھیتران کے بیٹے انعام کھیتران کا دعویٰ ہےکہ بڑی بیٹی بارکھان والے گھر اور بیٹے کوئٹہ والے گھر پر تھے۔
واقعے کے خلاف کوئٹہ میں جاں بحق افراد کے لواحقین اور مری قبیلے کے افراد کا دھرنا دوسرے روز بھی جاری ہے۔
چیئرمین مری قبائل اتحاد میر جہانگیر خان کا کہنا ہے کہ بارکھان واقعے پر بلوچستان حکومت اپنے وزیر کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ڈیرہ بگٹی کے علاقے پیرکوہ میں بھی بارکھان واقعے کے خلاف ریلی نکالی گئی اور دھرنا دیا گیا جبکہ کوہلو میں شٹر ڈاون ہڑتال کی گئی، دکانیں اور کاروبار بند رہا۔
بلوچستان بار کونسل نے بارکھان واقعے کے خلاف عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا جبکہ ڈی جی خان میں بھی احتجاج کیا گیا، اس کے علاوہ کراچی میں بھی بارکھان واقعے کے خلاف مظاہرہ کیا گیا اور سردار عبدالرحمان کھیتران کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔
یہ بوڑھی اماں قران اٹھا کر اپنی بے بسی بے کسی کا رونا روتی رہی لیکن انصاف نہیں ملا، رہائی نہ ملی اور آج اس اماں کی دو بیٹوں سمیت لاشیں بارکھان کےایک کنویں سےبرآمد ہوئی۔
موت ملی پر رہائی نہ ملی،جیتے جی انصاف نہ ملا، مرنے کےبعد بھی انصاف کی امید نہیں۔
بلوچستان میں جنگل کا قانون ہے pic.twitter.com/KNL8aIfMXz— Liaquat Shahwani (@LiaquatShahwani) February 21, 2023
صوبائی وزیر داخلہ نے بارکھان واقعہ کے بعد مری قبیلے کے مغویوں کی بازیابی کے لیے قانون نافذ کرنے والےاداروں کو مراسلہ لکھا ہے۔
صوبائی وزیر داخلہ کی جانب سے لکھا گیا ہے کہ عوام کی جان کی حفاظت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے، بچوں کی عدم بازیابی سےقانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ متاثرہورہی ہے۔