vni.global
Viral News International

وفاقی محتسب انسداد ہراسیت کشمالہ طارق اپنی ہی سٹاف خاتون کو ہراساں کرنے لگیں ، خبر وائرل

اسلام آباد (وی این آئی) خواتین کے تحفظ کیلئے بنایا گیا قومی ادارہ وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت میں خدمات سرانجام دینے والی خواتین مبینہ طور پر خود ہراسیت کا شکار ہونے لگیں۔ انتظامیہ کی طرف سے ہراسیت کا شکار خاتون نے وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت کشمالہ طارق سمیت محکمے کے افسران اور ایف آئی اے کے دو اہلکاروں کیخلاف کاروائی کیلئے تھانہ سیکرٹریٹ میں درخواست دیدی ۔
محکمہ میں بطور اسسٹنٹ خدمات سرانجام دینے والی زرمینہ اقبال نے تھانہ سیکرٹریٹ میں دی گئی درخواست میں بتایا کہ وفاقی محتسب  کشمالہ طارق کیخلاف ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی گئی ہے کہ چار سالہ مدت مکمل ہونے کے باوجود ذاتی اثر رسوخ پر کشمالہ طارق ابھی بھی ادارے میں موجود ہیں جو کہ آئین اور قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔اس دائر پٹیشن کا مجھے ذمہ دار قرار دیکر کشمالہ طارق مختلف طریقوں سے مجھ پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔ میرے گھر کی نگرانی کی جاتی رہی، ایڈمن عملہ بھی نفرت انگیز رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ مجھے کبھی محکمہ کے اپنے افسران اور کبھی ایف آئی اے کے اہلکاروں کے زریعے تنگ کیا جارہا ہے میرا ذاتی موبائل بھی چھین لیا گیا۔
زرمینہ اقبال نے بتایا کہ 3اگست کو دفتر میں آئی تو مجھے ایڈمن آفیسر حماد صدیقی نے کانفرنس ہال میں بیٹھا دیا اوور کہا کہ کشمالہ طارق کا حکم ہے کہ سارا دن یہیں بیٹھو گی۔شام 6 بجے جب سب سٹاف چلا گیا تو مجھے کورٹ روم بلایا گیا جہاں دو افراد جو خود کو ایف آئی اے کے اہلکار بتاتے تھے مجھے ٹارچر کرتے رہے اور میر ی نجی زندگی سے متعلق طرح طرح کے سوالات پوچھتے رہے میرا ذاتی فون بھی رکھ لیا اور دباؤ ڈال کر کوڈ بھی کھلوا لیا،  اس دوران سخت نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔

زرمینہ اقبال نے درخواست میں بتایا کہ اس ہتک آمیز رویہ، دباؤ اور فون واپس نہ کرنے پر شدید ذہنی دباؤ میں آکر خود کشی کا ارادہ کرتے ہوئے آفس کی 5 ویں منزل سے کودنے کا فیصلہ کیا اور اس ارادے سے اوپر فلو پر بھی گئی لیکن وہاں موجود چوکیدار نے روک دیا ، کوآرڈینیشن آفیسر زرمینہ خان نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ آفس کے سی سی ٹی وی کی فٹج سے ثبوت لیا جاسکتا ہے۔
زرمینہ اقبال نے کہا کہ کئی بار بتایا کہ میرا اس پٹیشن سے کوئی تعلق نہیں لیکن اس کے باوجود مجھے بار بار ہراسیت کا شکار کیا جارہا ہے۔مجھے تحفظ دیا جائے اور کشمالہ طارق  سمیت مجھے ہراسا ں کئے جانے کے واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائے۔

 یاد رہے اسلام آبادہائیکورٹ نے عہدے کی معیاد ختم ہونے کے بعد وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت کشمالہ طارق کو کام سے روکنے کی درخواست میں وزارت قانون و دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.