vni.global
Viral News International

ملکی معیشت کی خرابی کے ذمہ دار سیاست دان ہیں ، چوہدری شجاعت

اسلام آباد:  پاکستان مسلم لیگ ق کے سربراہ اور سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ پارٹی کے آئین میں تبدیلی کرنا چاہتا ہوں۔ معیشت کی خرابی کے ذمہ دار سارے سیاستدان ہیں۔ معاشی معاملات میں آرمی چیف کی مداخلت سیاستدانوں کی ناکامی ہے۔

اسلام آباد میں پارٹی کے سیکریٹری جنرل طارق بشیر چیمہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سچ بولنا گناہ بنتا جارہا ہے، زبان کا غلط استعمال کیا جارہا ہے اور گندی زبان استعمال کی جارہی ہے۔ عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے میرے بیٹوں کے بارے میں کچھ باتیں کی گئیں اور الزامات لگائے گئے لیکن مجھے اپنے بیٹوں پر فخر ہے انہوں نے میرے پوچھے بغیر کوئی کام نہیں کیا۔

 بیٹوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں نے انہیں الزامات کا جواب دینے سےمنع کیا تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا، الزامات لگانے والوں کی حیثیت کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ سیاست دانوں پر الزامات لگائے جارہے ہیں اور معیشت کی تباہی کا سارا الزام سیاست دانوں پر ڈالا جائے گا، سب بچ جائیں گے لیکن سیاست دان پھنس جائیں گے۔

ق لیگی سربراہ کا کہنا تھا کہ سیاست دانوں کو خود کو بچانا بھی ضروری ہے، اس لیے اپنے اعمال ٹھیک کریں اور عوام میں ان چیزوں کو ٹھیک طریقے سے لے کر جائیں اور انہیں غلط فہمی میں رہنے نہ دیں۔ معیشت کی خرابی کو کسی طریقے سے نہیں روکا گیا تو کام اتنا مہنگا ہوجائے گا کجہ ہاتھ سے نکل جائے گا۔

چودھری شجاعت کا کہنا تھا کہ معاشی معاملات میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو کیوں مداخلت کرنا پڑی، اس میں ہم سب سیاست دانوں چاہے حکومت میں ہیں یا حکومت سے باہر ہیں سب کا قصور ہے، اگر ہم سب ایک ہو کر دنیا کو پیغام دیں گے اور معاملات خود حل کرنے کی کوشش کریں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت جن لوگوں پر الزامات لگائے گئے ہیں، سارے الزامات اکٹھے کئے جائیں تو ایک سال میں ہمارے ملک کو جتنا نقصان ہو رہا ہے اس کو کسی طرح پورا نہیں کیا جاسکتا، اخباروں میں خبریں ہوتی ہیں جو سوائے الزامات کے کچھ نہیں، اس کو بھی دیکھنا پڑے گا۔ الزامات لگانے والوں کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ بچوں پر الزامات تھے، جس پر میں اور طارق بشیر چیمہ سابق وزیراعظم عمران خان کے پاس گئے اور پوچھا تو انہوں نے مونس الہٰی کے خلاف باتیں کیں۔

شجاعت حسین نے کہا کہ موجودہ حکومت کا وقت آیا تو سب نے کہا کہ چودھری صاحب نے سفارش کروائی تو اس وقت بھی حلفاً کہا تھا کسی سے سفارش نہیں کی، نہ تو نواز شریف اور نہ ہی شہباز شریف سے بلکہ زرداری صاحب خود میرے گھر آئے تھے اور وزارت کی مبارک باد دی تھی۔ جہاں میں ٹھہرا ہوا ہوں وہاں اوپر میرے سامنے پرویز الہیٰ کا کمرہ ہے اور ابھی دعوت دیتا ہوں کہ وہ یہاں آئیں۔

طارق بشیر چیمہ

مسلم لیگ (ق) کے سیکرٹری جنرل اور وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ کارکن مضطرب تھے شجاعت حسین کو پارٹی صدارت اورمجھے سیکریٹری جنرل کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے تو میرا کوئی مسئلہ نہیں، مجھے کہا جائے گا تو عہدہ چھوڑ دوں گا۔ سیکرٹری جنرل کا عہدہ اس لیے بھی چھوڑ دوں گا کیونکہ جس عہدے پر آپ کو کام نہ کرنے دیا جائے اور خود انصاف نہ کرسکتے ہوں تو اس کے ساتھ چمٹے رہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ شجاعت کو صدارت سے ہٹانا تقریباً ناممکن ہے کیونکہ ایک آدمی پارٹی کا بانی ہے اور 22 سال چلایا، آج پنجاب کا ایک عہدیدار اٹھ کر مجلس عاملہ کا اجلاس بھی بلالیتا ہے اور صدارت بھی کرلیتا ہے۔ پارٹی کے چاروں صوبوں کے صدور اور عہدیداراں یہاں موجود ہیں، جنہوں نے مجلس عاملہ کا اجلاس بلایا تھا ان کو عہدیداروں کے نام بھی نہیں۔ پچھلے چند دنوں سے ٹیلی فون شروع ہوگئے ہیں آپ لاہور آئیں اور فلاں ہوٹل میں ٹھہرایا جائے گا تاکہ مجلس عاملہ کا اجلاس ہو تو اس طرح کام نہیں ہوتا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ چودھری شجاعت ایک عزت اور وقار والا نام ہے، عمران خان کے پاس ہم دونوں گئے تھے اور وہ بضد تھا سالک حسین کو وزیر بنائیں کسی اور کو وزارت نہیں دینی ہے۔ پنڈورا بکس کھولو گے تو آپ کو تکلیف ہوگی، پچھلے 20 سال سے پارٹی کے امور کا کافی حد تک ذمہ دار ہوں، میں نے چودھری شجاعت سے ہر دفعہ منت کی کوئی ایسا کام نہ کرنا جس سے خاندان کا بٹوارا ہو اور انہوں نے وعدہ کیا لیکن شروعات انہوں نے کی۔

سیکریٹری جنرل مسلم لیگ (ق) نے کہا کہ آج وہ کہہ رہے ہیں خاندان تقسیم ہوگیا، شجاعت کی صحت فیصلوں پر اثرانداز ہو رہی ہے، طارق بشیر اور سالک حسین سازشی ہیں، یہ باتیں کون کر رہا ہے دیکھیں۔ کسی شریف آدمی کی اس سے زیادہ کوئی تضحیک نہیں ہوسکتی کہ آپ کس سے باتیں کروا رہے ہیں، کس کو آپ چابی مروڈ کر کہہ رہے ہیں کہ جاؤ اور جا کر باتیں کریں۔

پارٹی اختلافات پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ چودھری شجاعت سے ملنے کے لیے وزیراعظم آئے تھے اور بڑے اچھے ماحول میں ملاقات ہوئی اور ان کے جانے کے بعد ٹی وی پر ٹکر چلنے شروع ہوئے کہ مجلس عاملہ نے صدارت اور سیکریٹری جنرل کو ہٹا دیا گیا حالانکہ کوئی اجلاس نہیں ہوا، یہ 2 نمبر نہیں بلکہ 20 نمبر کارروائی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کو اس کا سامنا کرنا پڑے گا، اس لیے کہ ان کو کوئی اختیار حاصل نہیں ہے، مجھے نہیں پتہ وہ کس کو بلا کر کارروائی کر رہے ہیں کیونکہ وہ 2 نمبر اور 20 نمبر کارروائی کے چمپیئن ہیں لیکن میں ان سے کہوں گا ہوش اور عقل کے ناخن لیں، اپنے خاندان اور گھر کا مذاق نہ بنائیں۔

طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ یہ پارٹی ہے اور اس کو تقسیم کرنے کی انہوں نے جسارت کی ہے، اپنے خاندان کو تقسم کرنے کی کاوش کی ہے، ابھی بھی ہوش کے ناخن لیں، یہ اقتدار آنی جانی چیز ہے، پرویز الہٰی کو سب سے زیادہ پتہ ہے اقتدار سے ہم کتنے مرعوب ہوتےہیں۔ میں نے 50 دفعہ کہا تھا عمران خان کا وزیر نہیں رہنا چاہتا کیونکہ وہ جھوٹ بولتا ہے، وہ نالائق، نااہل ہے، بات کچھ اور کرتا ہے اور باہر آکر کچھ اور کہتا ہے۔ جتنا یہ چلیں گے اتنا ہم ان کے پیچھے چلتے رہیں گے اور نقصان ہوگا کیونکہ بہت ساری ایسی باتیں کھلیں گی اور اخبارات کی زینت بنیں گی جو نہیں کھلنی چاہیے۔

پنجاب اسمبلی کے اراکین کی نااہلی کے لیے الیکشن کمیشن جانے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ابھی سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آنا ہے، فیصلہ آنے کے بعد جانا پڑا تو ضرور جائیں گے، ہماری قانونی ٹیم کام کر رہی ہے۔

آصف علی زرداری کے ساتھ ملاقات کے حوالے سے سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ لوگ ایک دوسرے کے گھروں میں آتے رہتے ہیں اور یہ بھی زرداری صاحب کے گھر اس وقت جایا کرتے تھے جب ہمیں ڈپٹی وزیراعظم بننا تھا۔

طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ چودھری شجاعت اور میں مولانا فضل الرحمٰن، آصف زرداری اور مسلم لیگ(ن)کے زعما کے پاس گئے، جس پر کہا گیا کہ بیمار آدمی کو لے کر پھر رہے ہیں وزارت اعلیٰ کے بغیر ان کا گزارا نہیں ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.