متنازعہ کہانی ،فلم جوائے لینڈ کی پاکستان میں ریلیز پر پابندی
اسلام آباد: پاکستان کی وزارت اطلاعات ونشریات نے متعدد شکایات موصول ہونے پر ملک بھر کے سنیما گھروں میں عالمی ایوارڈ یافتہ فلم جوائے لینڈ کی نمائش پر پابندی عائد کردی۔
ماریہ بی نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں فلم جوائے لینڈ کی پاکستان میں ریلیز پر پابندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ صائم صادق کی فلم خواجہ سراؤں کے حقوق کیلئے نہیں بلکہ اسلامی معاشرے میں ہم جنس پرستی کو فروغ دینے کیلئے ہے۔
اس سے قبل فلم کا ٹریلر سامنے آنے کے بعد جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے بھی فلم پر پابندی کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنی ٹوئٹ میں دعویٰ کیا تھا فلم میں ہم جنس پرستی کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی ہے اور ایسی فلموں کے ذریعے پاکستان کے معاشرتی اقدار پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
پی ڈی ایم حکومت کاہم جنس پرستی کےابلاغ پرمبنی فرانسسی ایوارڈیافتہ فلم جوائےلینڈکی پاکستان میں نمائش کی اجازت کی مذمت کرتاہوں،اس فلم کی نمائش روکنے،عوام کوآگاہ کرنےکے لیےہرجائز/قانونی ذرائع کرینگے۔یہ فلم اسلام،ہمارےملک کےمعاشرتی اقدارکےخلاف اعلان جنگ ہے۔#Joyland #queer pic.twitter.com/cMo1Qv8mxQ
— Senator Mushtaq Ahmad Khan (@SenatorMushtaq) November 3, 2022
فلم کی کہانی ایک نوجوان اور ٹرانس جینڈر کے گرد گھومتی ہے جوکہ ڈانس کلب میں ملازمت کے دوران ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ فلم کو کانز فلم فیسٹیول میں ’کانز: کوئیر پام‘ ایوارڈ سے نوازا گیا تھا جو کہ خصوصی طور پر ہم جنس پرست یا پھر مخنث افراد کی کہانیوں پر مبنی فلموں کو دیا جاتا ہے۔
الحمدللہ! @GovtofPakistan
نےمتنازع فلم جوائےلینڈکوجاری کردہ نمائش کالائسنس منسوخ کردیاہے۔نوٹیفیکیشن جاری،یہ حکومت کااحسن اقدام ہے۔پاکستان اسلامی مملکت ہےیہاں کوئی قانون، کوئی اقدام،کوئی نظریہ خلافِ اسلام نہیں چل سکتا۔#BanJoyland pic.twitter.com/tib00zo6Dd— Senator Mushtaq Ahmad Khan (@SenatorMushtaq) November 12, 2022
