عمران خان نے مسئلہ کشمیر پر بات کرنے سے روکنے پر جرمن صحافی کو کھری کھری سُنا دی
سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چئیرمیں عمران خان نے مسئلہ کشمیر پر بات کرنے سے روکنے اور روس یوکرین تنازعے پر اپنے الفاظ منہ میں ڈالنے کی کوشش پر جرمن صحافی کوکھری کھری سنا دی۔
جرمن ٹی وی ڈوئچے ویلے (DW) کو انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ یورپ کشمیر پر بات کیوں نہیں کرتا، اسے صرف یورپی مسائل کیوں نظر آتے ہیں۔
انہوں نے جرمن صحافی کی بات کو مکمل نظر انداز کرتے ہوئے کہا کہ میں پہلے مسئلہ کشمیر پر بات کروں گا کیونکہ یہ مسئلہ ہم سے جڑا ہوا ہے۔
ڈوئچے ویلے کے چیف انٹرنیشنل ایڈیٹر رچرڈ واکر نے عمران خان سے روس یوکرین جنگ پر سوال کیا، جس پر انہوں نے کشمیر کاز پر بات شروع کردی۔
اینکر نے عمران خان کو کشمیر پر بات کرنے سے روکنے کی کوشش کی اور کہا کہ آپ صرف دورہ روس پر بات کریں۔
عمران خان نے ٹی وی اینکر کو جواب میں کہا کہ میں پہلے کشمیر کے مسئلے پر بات کروں گا ، یہ ہمارا مسئلہ ہے اور ہم سے جڑا ہے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کا معاملہ ہمارے لیے سب سے اہم ہے ، دوسرے لوگ ہمارے مسائل اور انسانی حقوق کے معاملات پر فکرمند کیوں نہیں ہوتے، کیوں آواز بلند نہیں کرتے ، ہم صرف یورپی مسائل کی ہی مذمت کیوں کرتے ہیں؟ ہمیں توازن برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔
عمران خان نے اینکر رچرڈ واکر پر غصہ ہوتے ہوئے کہا آپ لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں جو ایشو آپ کا نہیں ہوتا اس پر آپ بات نہیں کرتے۔
روس یوکرین جنگ سے متعلق سوال پر عمران خان کا کہنا تھا میرا دورہ روس تمام اسٹیک ہولڈر کی مشاورت سے طے شدہ تھا، جنگ تو بعد میں شروع ہوئی تھی۔ ہم روس سے تیل ، گیس اور دیگر اجناس خریدنے کا سوچ رہے تھے۔
ایک سوال کے جواب میں سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا روس یوکرین جنگ میں پاکستان کسی کی طرف داری نہیں کرسکتا ہے کیونکہ ایک کی طرف داری کا مطلب ہے دوسرے کی مخالفت۔