جنگ نہیں چاہتے، جارحیت پر خاموش بھی نہیں بیٹھیں گے: ایرانی صدر
تہران: ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ایران کسی قسم کی جنگ کا خواہاں نہیں، تاہم ملک پر ہونے والی کسی بھی جارحیت کے سامنے ہرگز خاموش نہیں بیٹھے گا اور جارحین کو حتمی و فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے روانہ ہونے سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ ایران نے کبھی جنگ کا آغاز نہیں کیا اور نہ ہی وہ خطے میں کشیدگی چاہتا ہے۔ تاہم، اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہوئے کسی بھی طاقت کو یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ ایرانی قوم کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر سکے۔
ایرانی صدر نے لارک جزیرے پر ہونے والی حالیہ امریکی کارروائی کے تناظر میں گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا کہ خطے میں عدم استحکام اور بدامنی کسی بھی ملک کے فائدے میں نہیں ہے اور یہ تمام اقوام کے لیے مشکلات کا باعث بنے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی امن کا آغاز علاقائی استحکام اور امن و امان کے قیام سے ہوتا ہے۔
معاشی صورتِ حال اور بین الاقوامی پابندیوں پر بات کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے بتایا کہ پابندیوں کے باعث ایرانی برآمدات میں 25 سے 35 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ درپیش معاشی چیلنجز کے باوجود ایران اپنی خودمختاری اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔