vni.global
Viral News International

پاکستانی عوام کم کھانا اور بجلی گیس پٹرول کے بغیر زندگی گزارنا سیکھیں

کالم : محمد ذوالفقارپشاوری

پاکستان کو قائم ہوئے75سال ہوگئے ہیں لیکن اس عرصے میں یہاں کے حکمرانوں کی عیاشیاں اور عوام کے رونے دھونے کی عادت نہیں بدلی حالانکہ ایسا کرنے کیلئے ہم نے ہر قسم کے حکمران آزمائے۔ان حکمرانوں میں روٹی کپڑا مکانکا لالچ دینے والے، ایشین ٹائیگر کا جھانسہ دینے والے اور ریاست مدینہ کے دعویدار شامل ہیں۔ عوام کی بے صبری دیکھنی ہے تو 2018کو یاد کیجئے پی ٹی آئی کو حکومت بنائے تین مہینے ہی گزرے تھے کہ عوام نے مہنگائی مہنگائی کا شور مچا دیا،اس وقت کی کابینہ میں قابل ترین لوگ شامل تھے جو آج بھی ہیں۔ عمران خان 22سال کی سیاسی جدوجہد کے بعد وزیر اعظم بنے تھے اپنی حکومت کے چار سال تک مسلسل عوام کو صبر کی تلقین کرتے رہے لیکن عوام کی سوئی مہنگائی پر اٹک گئی یہ سب دیکھ کر اس وقت کے ایک وزیر باتدبیرنے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ کم کھائیں کیونکہ کم کھانا بچت اور صحت مند رہنے کا ٓآسان نسخہ ہے۔ سنا ہے علی امین دن میں ایک بار کھاتے ہین لیکن انکے جاننے والوں کا کہناہے کہ ان کی صحت کا اصل راز چھوٹی کا وہ شہدہے جسے وہ کھانے کے علاوہ استعمال کرتے ہیں اور کھاتے کم اور پیتے زیادہ ہیں۔

اصل میں تبدیلی سرکار کو اقتدار سنبھالنے کے بعد اس حقیقت کا پتہ چلا کہ خزانہ تو بالکل خالی ہے یہ جاننے کے بعد وزیر اعظم نے دوست ممالک سے قرض کی درخواست کی لیکن اس درخواست کو کوئی خاطر خواہ پزیرائی نہ ملی مجبوری کی حالت میں خان صاحب کو آئی ایم ایف سے قرض لینے کا مشکل فیصلہ کرنا پڑا۔آ ٓئی ایم ایف نے چند معمولی شرائط کے ساتھ جن میں سی پیک پر کام کی رفتار کم کرنا، روپے کی قرد گرانا،بجلی گیس اور پٹرول کی قیمتیں بڑھانا شامل تھیں پر قرض دینے کی حامی بھر لی اس طرح حکومت کو قرض کی ہر نئی قسط لینے کیلئے پہلے پٹرول، گیس بجلی کے ریٹس بڑھانے اور روپے کی قدر کم کرنا پڑتی ہے جس سے لامحالہ مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے لیکن عوام اس بات کو سمجھنے کیلئے تیار نہیں۔

اب اگر عوام یہ چاہتی ہے کہ وہ مہنگائی کے عذاب سے بچ جائیں تو اسے کم کھانے کی طرح پٹرول گیس اور بجلی کے بغیر زندگی گزارنے کی عادت ڈالنی ہوگی۔اس طرح وہ بجلی گیس کے اضافی بلوں سے بھی چھٹکارہ پالیں گئے اور مہنگائی بھی کم ہوگی۔یہ سب کرنے کیلئے عوام کو صر ف 200سال پیچھے جانا ہوگا یہ وہ زمانہ ہے جب بجلی گیس پٹرول ہوتا ہی نہیں تھا اس وقت کے انسان بھی زندگی گزارتے تھے بلکہ آج کے دور سے اچھی پرسکون زندگی گزارتے تھے اس لئے عوام کو چاہئے کہ وہ دیسی زندگی گزارنا شروع کردیں یقین کریں زندگی آسان اور حسین ہوجائی گی۔پاکستان کی غریب عوام بجلی صرف روشنی پنکھے چلانے اور ٹی وی دیکھنے کیلئے استعمال کرتی ہے اگر یہ لوگ جلدی جاگنے اور جلدی سونے کی عادت اپنالیں تو پورا دن سورج کی روشنی میں اپنے بہت سے کام کرسکتے ہیں، بجلی کے پنکھوں کی جگہ ہاتھ کے پنکھے استعمال کرسکتے ہیں اور رات کو روشنی کیلئے موم بتیاں اور دئیے استعمال کرسکتے ہیں پہلے ہی لود شیڈنگ نے عوام کا ان کے بغیر رہنے کا عادی بنادی ہے۔

غریب لوگ پٹرول صرف موٹر سائیکل کیلئے استعمال کرتے ہیں یہ کام وہ سائیکل سے بھی لے سکتے ہیں۔ رہ جاتی ہے لوکل بسیں تو انکی جگہ گھوڑا گاڑیاں، بیل گاڑیاں اور گدھا گاڑیاں استعمال کی جاسکتی ہیں خوش قسمتی سے ریلوے کا نظام اسی طرح چلتا رہے گا صرف ڈیزل انجن کی جگہ بھاپ والا انجن استعمال کرنا پڑے گا، غریب عوام گیس بطور ایندھن استعمال کرتی ہے یہ کام وہ لکڑی اور کوئلہ کے استعمال سے بھی کر سکتے ہیں اور ہمارے ملک میں کوئلہ کے وسیع ذخائر موجود ہیں شروع شروع میں ان تبدیلیوں سے عوام کو کچھ مشکلات ضرور برداشت کرنا پڑیں گی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ ان باتوں کے عادی ہوتے جائیں گے، دوسرا گیس بجلی پٹرول سے چلنے والی اشیا کی جگہ متبادل اشیامارکیٹ میں آجائیں گی۔ پاکستان کی عوام کو شکر ادا کرنا چاہئے کہ انہیں 200سال پرانے دور میں زندہ رہنے کا موقع مل رہا ہے امریکہ تو ہمیں پتھر کے زمانے میں بھیج رہا تھا عوام اس بات کا یقین کریں کہ وہ سابقہ دور والی زندگی میں اس دور سے زیادہ خوشحال رہیں گے۔رہ گئے خان صاحب تو وہ عوام کو اوپر اٹھا نے کا پروگرام بنا کر آئے تھے اور عوام کو اوپر پہنچا کر ہی دم لیں گے وہ اپنے عزم اور ضد دونوں کے پکے ہیں انہیں اپنا کام کرنے دیں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.