ایران،پولیس حراست میں خاتون کی ہلاکت پرمظاہرے
ایران میں اخلاقی پولیس کے ہاتھوں گرفتار نوجوان خاتون مہسا امینی کی دوران حراست وفات پر شدید مظاہرے پھوٹ پڑے۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی ویڈیوز میں مظاہرین کو ایران کے صوبہ کردستان کے قریبی شہروں سے 22 سالہ مہسا امینی کے آبائی شہر ساقیز میں جمع ہونے کے بعد حکومت مخالف نعرے لگاتے ہوئے دیکھا گیا جو تہران کے ایک ہسپتال میں انتقال کر جانے والی نوجوان خاتون کا سوگ منا رہے تھے۔
Iran is witnessing a second night of street protests after the death of Mahsa Amini, 22, in custody of morality police.
In Sanandaj, capital of Kurdistan province, protesters march down the city's Ferdowsi Street (35.3129354,46.9979095)pic.twitter.com/aEJediaD79
— Shayan Sardarizadeh (@Shayan86) September 17, 2022
کچھ مظاہرین نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے حوالے سے ’ڈکٹیٹر مردہ باد‘ کے نعرے بھی لگائے، اس دوران پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی۔