سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہم اکارڈ میں شمولیت سے مشروط ہے،ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری معاہدے کو باضابطہ طور پر ’معاہدہ ابراہیمی‘  میں سعودی عرب کی شمولیت سے مشروط کر دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں امریکی صدر نے واضح کیا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے اس سول جوہری معاہدے میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی، اور یہ منصوبہ تمام تر پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا جیسے کہ دیگر ممالک کے پاس سول جوہری پروگرام موجود ہیں۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد اب اسے امریکی کانگریس کی توثیق درکار ہوگی۔ 30 سالہ مدت اور اربوں ڈالر کے تخمینے پر مشتمل اس معاہدے کے تحت سعودی عرب کو توانائی کے شعبے میں جدید جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہو سکے گی۔

اس پیشرفت پر اسرائیلی اپوزیشن اور سیاسی حلقوں کی جانب سے شدید تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ اسرائیلی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کو جوہری ٹیکنالوجی یا افزودگی کے کسی بھی امکان کی فراہمی مشرقِ وسطیٰ میں ایٹمی دوڑ کو جنم دے سکتی ہے جو اسرائیل کے لیے اسٹریٹجک نقصان کا باعث ہوگی۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ اقتدار میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سیکورٹی تعلقات کو معمول پر لانا ہے۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش، سوڈان اور قازقستان جیسے ممالک پہلے ہی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر چکے ہیں۔

Comments (0)
Add Comment