امریکہ ایران جنگ میں شدت،ایک دوسرے کے فوجی ٹھکانوں پر میزائل حملے

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری باقاعدہ جنگ ایک بار پھر شدید ترین مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ گزشتہ سات روز سے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست اور بلا تعطل گولہ باری، فضائی حملوں اور میزائلوں کا تبادلہ جاری ہے جس نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو شدید ترین بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔

امریکی حملوں کا ساتواں دور: ‘آپریشن ایپک فیوری’ میں توسیع

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے مطابق، جمعہ اور ہفتے کی درمیانی رات امریکی جنگی طیاروں، بحری جہازوں اور ڈرونز نے مسلسل ساتویں رات ایران کے متعدد شہروں پر بمباری کی ہے۔

نشانہ بننے والے علاقے: امریکی حملوں میں ایران کے ساحلی اور اندرونی شہروں بشمول لار، جاسک، سیریک، بوشہر، بندر عباس، جزیرہ قشم، اہواز اور وسطی شہر یزد کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی مؤقف: پینٹاگون کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیتوں، زیرِ زمین اسلحہ خانوں، نگرانی کے نظام (Surveillance Sites) اور آبنائے ہرمز میں اس کی بحری قوت کو مفلوج کرنا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ امریکی بحریہ ایرانی بندرگاہوں کی مکمل ناکہ بندی برقرار رکھے گی۔

ایران کا بھرپور جوابی وار: خلیجی ممالک میں امریکی اثاثوں پر حملے

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی بمباری کے جواب میں مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات پر بڑے پیمانے پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے ہیں۔

نشانے پر موجود ممالک: ایران کی جانب سے بحرین، کویت اور اردن میں موجود امریکی اثاثوں پر میزائل حملے کیے گئے ہیں، جس کے بعد ان ممالک میں ہنگامی حالت کے سائرن گونج اٹھے۔

نقصانات کی اطلاعات: ایرانی میڈیا کے مطابق، ان حملوں میں امریکی اڈوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ کویت میں ایک اہم واٹر پلانٹ  بھی متاثر ہوا ہے۔ دوسری طرف، ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ہرمزگان صوبے میں امریکی حملوں کے نتیجے میں متعدد شہری اور فوجی ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔

Comments (0)
Add Comment