اسلام آباد (ویب ڈیسک / ذرائع): وفاقی دارالحکومت میں آن لائن فراڈ، ویزا ورزیوں اور غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف سیکورٹی اداروں کے جاری وسیع پیمانے کے کریک ڈاؤن میں مزید پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے ایک پلازے میں کارروائی کرتے ہوئے وہاں مختلف مقامات پر چھپے ہوئے مزید 50 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ غیر ملکی شہری کارروائی کے دوران پلازے کی عمارت میں چھپ گئے تھے، تاہم تلاشی کے عمل کے دوران انہیں حراست میں لے کر جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ جیل منتقلی کے فوراً بعد حکومت کی جانب سے ان تمام افراد کی اپنے اپنے ممالک واپسی (ڈی پورٹ) کے طریقہ کار پر عملدرآمد بھی شروع کر دیا گیا ہے۔
ملک بدری کا پہلا مرحلہ اور بلیک لسٹنگ
ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ان غیر ملکیوں کو پاکستان سے بے دخل کرنے کے پہلے مرحلے میں گزشتہ رات 50 ویتنامی باشندوں کو ان کے وطن روانہ کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دیگر تمام گرفتار غیر ملکیوں کو بھی مرحلہ وار ملک بدر کیا جا رہا ہے اور آئندہ پاکستان میں ان کے داخلے کو روکنے کے لیے ان کے نام بلیک لسٹ (Blacklist) اور فارنرز کنٹرول لسٹ (FCL) میں شامل کیے جا رہے ہیں۔
کال سینٹر اسکینڈل اور حالیہ اقدامات
خیال رہے کہ حال ہی میں اسلام آباد میں ایف آئی اے اور سائبر کرائم ایجنسی نے ایک مشترکہ اور بڑی کارروائی کے دوران سینکڑوں غیر ملکیوں کو حراست میں لیا تھا جو بزنس، وزٹ اور ٹورسٹ ویزوں پر پاکستان آئے تھے اور مختلف ملٹی اسٹوری عمارتوں میں غیر قانونی کال سینٹرز قائم کر کے آن لائن سکیمنگ، کرپٹو کرنسی فراڈ اور مالیاتی دھوکہ دہی میں ملوث تھے۔
وزارت داخلہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واضح کیا ہے کہ ملک کو آن لائن مالیاتی فراڈ اور غیر قانونی نیٹ ورکس سے پاک کرنے کے لیے یہ کریک ڈاؤن بلاتفریق جاری رہے گا۔