ایران اور امریکہ کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں متوقع تاریخی امن مذاکرات اور اقتصادی پابندیوں میں ممکنہ نرمی کی خبروں نے پاکستان کے صرافہ بازاروں میں ایک نیا ہیجان پیدا کر دیا ہے۔ ملک بھر کی اوپن کرنسی مارکیٹ میں ایرانی ریالکی نقد خریداری میں غیر معمولی تیزی دیکھی جا رہی ہے، جس کے باعث روپے کے مقابلے میں ریال کے غیر سرکاری تبادلے کے نرخ میں اچانک بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں عروج پر ہیں کہ جون 2026 کے وسط میں ایران پر عائد امریکی پابندیوں میں نرمی اور تہران کے منجمد اثاثوں کی بحالی کے حوالے سے ایک بڑے معاہدے پر دستخط متوقع ہیں۔ اس جیو پولیٹیکل تبدیلی نے پاکستانی انویسٹرز اور عام شہریوں کو بڑے پیمانے پر ایرانی ریال جمع کرنے پر متحرک کر دیا ہے۔
مارکیٹ ڈینامکس: “لو انویسٹمنٹ، ہائی والیم” کا رجحان
انٹرنیشنل فنانشل مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق، پاکستانی سرمایہ کاروں میں ایرانی ریال کی مانگ بڑھنے کی بنیادی وجہ اس کا دنیا کی سستی ترین کرنسی ہونا ہے۔
انٹر بینک مارکیٹ میں جہاں 1 پاکستانی روپیہ اب بھی تقریباً 5,750 سے 5,850 ایرانی ریال کے برابر ٹریڈ ہو رہا ہے، وہاں اوپن مارکیٹ (صرافہ بازار) میں سپلائی اور ڈیمانڈ کا قانون بالکل بدل چکا ہے۔
قیمتوں میں اضافہ: چند ماہ قبل تک پاکستان کی اوپن مارکیٹ میں 1 کروڑ (10 ملین) ایرانی ریال کی نقد گڈی (پیکٹ) 5,500 سے 6,500 پاکستانی روپے میں دستیاب تھی، جو اب مانگ میں اچانک تیزی کے باعث 7,500 سے 8,500 پاکستانی روپے تک فروخت ہو رہی ہے۔
بلوچستان کے سرحدی مراکز پر شدید دباؤ
رپورٹس کے مطابق، ایرانی کرنسی کے نوٹوں کی سب سے زیادہ خریداری کوئٹہ، تفتان اور مکران ڈویژن کے سرحدی علاقوں میں دیکھی جا رہی ہے، جہاں ایران کے ساتھ روزمرہ کی غیر رسمی تجارت پہلے ہی فعال ہے۔ تاہم، حالیہ دنوں میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے معاشی مراکز کے منی چینجرز نے بھی اس ہائپ کے بعد کوئٹہ کے نیٹ ورکس سے بھاری مقدار میں ایرانی ریال منگوانا شروع کر دیے ہیں، جس سے مارکیٹ میں نقد نوٹوں کی عارضی قلت پیدا ہو گئی ہے۔
معاشی ماہرین کی وارننگ: ہائی رسک انویسٹمنٹ
بین الاقوامی مالیاتی امور کے ماہرین نے اس صورتحال پر پاکستانی سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ:
دوبارہ فروخت کا چیلنج: پاکستان میں ایرانی ریال کا کوئی آفیشل یا قانونی بینکنگ چینل موجود نہیں ہے۔ حالات سازگار ہونے پر بھی ان نوٹوں کو دوبارہ بڑے پیمانے پر کیش کروانا صرف اوپن مارکیٹ کے ڈیلرز پر ہی منحصر ہوگا۔
تومان اور ریال کا فرق: ایران طویل عرصے سے اپنی معیشت سے صفر ختم کرنے اور ریال کو “تومان” میں مکمل تبدیل کرنے پر کام کر رہا ہے۔ اگر تہران نے نئی کرنسی پالیسی نافذ کی، تو پاکستان میں موجود نقد نوٹوں کی قانونی حیثیت متاثر ہو سکتی ہے۔
جیو پولیٹیکل غیریقینی صورتحال: واشنگٹن اور تہران کے تعلقات کی تاریخ انتہائی پیچیدہ ہے۔ اگر امن مذاکرات میں خدانخواستہ کوئی تعطل آیا، تو ریال کی قیمت یکدم کریش کر جائے گی اور خریدار مارکیٹ سے غائب ہو سکتے ہیں۔