وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں نئی حج پالیسی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ماضی کی ایک ایک سالہ پالیسیوں کے برعکس یہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار 4 سالہ طویل مدتی حج پالیسی اور پلان متعارف کرایا گیا ہے۔
اس نئی پالیسی کا بنیادی مقصد طویل مدتی منصوبہ بندی کو ممکن بنانا، حج آپریشنز کے انتظامات میں نمایاں بہتری لانا اور عازمینِ حج کو پہلے سے زیادہ مؤثر اور بہتر سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔
اجلاس کے دوران وفاقی کابینہ نے رواں برس کے بہترین حج انتظامات پر وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف اور وزارتِ مذہبی امور کی پوری ٹیم کی کارکردگی کو خصوصی طور پر سراہا۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اس نئی 4 سالہ پالیسی پر مکمل اور شفاف عملدرآمد کے لیے اب باقاعدہ معیاری طریقہ کار اور دیگر ضروری ضوابط مرتب کیے جائیں گے۔
مزید برآں، سعودی عرب کے قوانین اور وقت کے ساتھ بدلتے ہوئے ضوابط سے ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے، ضرورت پڑنے پر اس پالیسی میں مناسب ترامیم بھی کی جا سکیں گی۔