پاکستان کے مختلف حصوں میں یکم جولائی سے پری مون سون بارشوں کے سلسلے کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے، جس کے باعث ملک بھر میں شدید موسمیاتی تبدیلیاں اور بعض علاقوں میں جانی و مالی نقصانات رپورٹ ہو رہے ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور صوبائی حکام نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔
خیبر پختونخوا میں جانی و مالی نقصانات
صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں تیز ہواؤں، آسمانی بجلی اور فلیش فلڈز (سیلابی ریلوں) نے شدید تباہی مچائی ہے۔
جانی نقصانات: صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دو بچوں اور ایک خاتون سمیت 3 افراد جاں بحق جبکہ 5 مردوں اور 11 بچوں سمیت 16 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
متاثرہ اضلاع: بارشوں اور سیلابی صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اضلاع میں خیبر، لوئر دیر، مردان، شانگلہ، باجوڑ، لوئر چترال، اپر چترال اور اپر دیر شامل ہیں۔
سرکاری ہدایات: ڈی جی پی ڈی ایم اے نے شہریوں کو خراب موسم کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، ندی نالوں اور پہاڑی سیاحتی مقامات کا رخ نہ کرنے کی سخت تاکید کی ہے۔
این ڈی ایم اے کا شدید بارشوں اور سیلاب کا انتباہ
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹینے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں رواں سال شدید گرمی کی لہروں اور غیر معمولی موسمیاتی تغیرات کے بعد، پاکستان میں بھی جولائی کے دوران معمول سے زیادہ بارشیں متوقع ہیں، جس سے شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ اور دریاؤں میں طغیانی کا خطرہ ہے۔
حکومتِ پاکستان کے ہنگامی اقدامات اور الرٹ
بارشوں کے اس نئے سلسلے کے پیشِ نظر وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں مون سون سے نمٹنے کے لیے درج ذیل اہم فیصلے کیے گئے:
ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا قیام: وفاقی وزیر برائے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی نگرانی میں ایک خصوصی کمیٹی قائم کی گئی ہے جو این ڈی ایم اے اور صوبائی اداروں کے ساتھ مل کر ہفتہ وار بنیادوں پر صورتحال کا جائزہ لے گی۔
کشمیر، جی بی اور صوبوں کا ہنگامی دورہ: وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی اور چیئرمین این ڈی ایم اے رواں ہفتے تمام صوبوں بشمول آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا ہنگامی دورہ کریں گے تاکہ انتظامی تیاریوں کو حتمی شکل دی جا سکے۔
330 ارب روپے کے اضافی فنڈز: حکومت نے آبی تحفظ اور ممکنہ سیلابی خطرات سے نمٹنے کے لیے بجٹ میں 330 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی ہے، جبکہ وفاقی وزیر خزانہ کو ہنگامی فنڈ قائم کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔
-
تجاوزات کا خاتمہ: تمام صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دریاؤں کے راستوں اور سیلابی گزرگاہوں میں قائم غیر قانونی تجاوزات اور رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کریں۔
حکام کی جانب سے عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ موسم کی صورتحال سے باخبر رہنے کے لیے سرکاری الرٹس اور ایڈوائزریز پر مکمل عمل کریں۔