اسلام آباد کی مقامی عدالت نے ملزم عمرحیات کومجرم قراردے دیا ۔ جرم ثابت ہونے پرمختلف دفعات کے تحت اکیس سال قید کی سزا کے ساتھ ساتھ مجموعی طورپرپچیس لاکھ روپے جرمانہ کا حکم دیا گیا ،عدالت نے تحریری فیصلہ جاری کردیا
ثناء یوسف قتل کیس کا محفوظ فیصلہ سنائے جانے سے قبل کمرہ عدالت میں ملزم عمرحیات کولایا گیا ، ثناء یوسف کے والدین اور وکلاء بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے ۔۔
ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے ملزم عمرحیات کو مجرم قراردیا ۔۔ فیصلے کے مطابق دفعہ تین سو دوکے تحت عمر حیات عرف کاکا کوسزائے موت سنائی ۔۔قتل کا الزام ثابت ہونے پربیس لاکھ روپے جرمانہ بھی کیا ۔۔ڈکیتی کی دفعہ تین سو بانوے کے تحت دس سال قید اوردولاکھ جرمانہ کی سزا سنائی گئی ۔۔
عدالت نے گھرمیں گھسنےکی دفعہ چار سو انچاس کےتحت دس سال قید اوردولاکھ جرمانہ کیا ۔۔ اسلحہ برآمدگی کی دفعہ چارسوگیارہ کے تحت ایک سال قید اورایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی گئی ۔۔ثنا یوسف کے والدین نے فیصلے پر اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے کہا انصاف پر مبنی فیصلہ ہوا ہے
ٹک ٹاکرثنا یوسف کوگزشتہ سال دو جون کو سیکٹرجی تیرہ میں گھرمیں گھس کرقتل کیا گیا تھا ،ثناء یوسف کووالدہ اورپھوپھی کے سامنے قتل کیا گیا ۔ اسلام آباد پولیس نے چوبیس گھنٹوں کے اندربائیس سالہ عمرحیات عرف “کاکا کوفیصل آباد سے گرفتار کیا ۔ گزشتہ سال ستمبرمیں عدالت نے عمرحیات پرفردِ جرم عائد کی ، مقدمے میں ستائیس گواہ پیش ہوئے تھے