آفیشل سیکریٹ ایکٹ عدالت کو چار ہفتوں میں سائفر کیس کا ٹرائل مکمل کرنے کا حکم

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی جانب سے جاری تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے سیکشن نو کے تحت نامزد کیا گیا ہے۔ شاہ محمود قریشی پر سائفر کیس میں جرم کی حوصلہ افزائی اور معاونت کے الزامات ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قانون کے مطابق جرم کی معاونت کرنے والے پر بھی اتنی ہی ذمہ داری عائد ہوتی ہے جتنی جرم کرنے والے پر ہوتی ہے۔ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا سیکشن نو کہتا ہے کہ جرم پر اکسانے یا معاونت پر بھی وہی سزا ہوگی جو مرکزی ملزم کی ہوگی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ مرکزی ملزم چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت کی درخواست سولہ اکتوبر کو مسترد کر چکی ہے۔ شاہ محمود قریشی کی ضمانت بھی مرکزی ملزم سے جڑی ہوئی ہے۔ تحریری فیصلے کے مطابق درخواست گزار کی جانب سے آئین کے آرٹیکل دو سو اڑتالیس کے تحت استثنیٰ بھی مانگا گیا ہے۔ آرٹیکل دو سو اڑتالیس کی استثنیٰ کا اطلاق سرکاری ذمہ داریاں نبھانے کے حوالے سے ہوتا ہے۔ شاہ محمود قریشی پر الزام ہے کہ انہوں نے ستائیس مارچ دو ہزار تئیس کو جلسے میں تقریر کے دوران جرم کی حوصلہ افزائی، معاونت کی، ایک جلسے میں تقریر کرنا سرکاری ذمہ داریوں میں شامل نہیں، لحاظہ آرٹیکل دو سو اڑتالیس کا اطلاق نہیں ہوتا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواست مسترد کی جاتی ہے۔ خصوصی عدالت یہ حکم نامہ موصول ہونے کے چار ہفتوں کے اندر اندر سائفر کیس کا ٹرائل مکمل کرے۔

Comments (0)
Add Comment