امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے ایک تاریخی پیشرفت سامنے آئی ہے۔
امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران پر مسلط کردہ جنگ کے خاتمے سے متعلق مفاہمتی یادداشت کے متن پر جمعرات کی علی الصبح ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دستخط کیے۔
رپورٹ کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے مفاہمتی یادداشت پر ڈیجیٹل اور غیرحضوری طریقے سے دستخط کیے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں واقع ورسائے پیلس میں فرانسیسی صدر امانوئل میکرون کی موجودگی میں اس دستاویز پر دستخط کیے۔
اسلام آباد مفاہمت تک پہنچنے والے سفارتی عمل میں پاکستان کے ثالثی کردار کے پیش نظر، پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف بھی اس مفاہمتی یادداشت کے متن پر دستخط کریں گے۔
وائٹ ہاؤس نے باضابطہ تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے 14 نکاتی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر الیکٹرانک دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد یہ معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق، اس معاہدے کا بنیادی اور فوری مقصد اقتصادی لحاظ سے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنا ہے، جس پر دونوں فریقین پہلے ہی متفق ہو چکے تھے۔
اہم ترین تفصیلات اور دستخط کی تقریب
الیکٹرانک دستخط: دونوں سربراہانِ مملکت نے اس یادداشت پر ڈیجیٹل دستخط کیے۔ پہلے یہ تقریب جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ میں ہونا طے تھی، تاہم ایک ثالث ملک کی سفارتکاری اور دونوں جانب سے جلد عملدرآمد کی خواہش کے باعث اس عمل کو بدھ کے روز ہی مکمل کر لیا گیا۔
اعلیٰ قیادت کی توثیق: وائٹ ہاؤس کے مطابق، اس تاریخی مفاہمت پر اتوار کے روز امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف بھی دستخط کر چکے ہیں۔
ملٹی فرنٹ جنگ بندی: اس معاہدے کے تحت لبنان سمیت تمام فعال محاذوں پر فوری جنگ بندی شامل ہے۔
جوہری پروگرام اور فنڈز: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ایران کا جوہری پروگرام فی الحال موجودہ حالت میں برقرار رہے گا، جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اشارہ دیا ہے کہ اگر ایران تمام شرائط پر مکمل عملدرآمد کرتا ہے تو اسے 300 ارب ڈالر کے تعمیراتی فنڈز مل سکتے ہیں۔
عالمی ردعمل اور سیاسی دباؤ
ذرائع کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس پر معاہدے کا متن جاری کرنے کے لیے شدید سیاسی دباؤ تھا، تاہم ایرانی موقف تھا کہ باضابطہ دستخط سے قبل متن کو عام نہ کیا جائے۔ امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے پریس بریفنگ کے ذریعے معاہدے کی تفصیلات جاری کیں، جس سے کئی دنوں سے جاری ابہام ختم ہو گیا۔
عالمی سطح پر اس امن معاہدے کا بھرپور خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔ فرانسیسی صدر سمیت دیگر عالمی رہنماؤں نے اسے مشرقِ وسطیٰ اور دنیا کے امن کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے، جبکہ پاکستانی وزیر اعظم نے بھی دونوں ممالک کے درمیان اس اہم ترین مفاہمت کی توثیق کی ہے۔