پنجاب کے شہر گوجرخان میں معمولی تلخ کلامی پر فائرنگ کا ہولناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کر کے باپ اور بیٹے کو بے دردی سے قتل کر دیا۔
ذرائع کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ گوجرخان کی یونین کونسل جرموٹ کے نواحی گاؤں کینگھر خورد میں پیش آیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق مقتولین ارشد بھٹی اور اسکے اکلوتا بیٹا مصدق بھٹی اپنے گاؤں میں موجود تھے کہ اچانک حملہ آورو ں نے ان پر آتشیں اسلحے سے سیدھی فائرنگ کر دی۔ فائرنگ اتنی شدید تھی کہ باپ اور بیٹے کو سنبھلنے کا موقع نہ ملا اور وہ موقع پر ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
پولیس کی فوری کارروائی اور شواہد اکٹھے کرلئے
واقعے کی اطلاع ملتے ہی گوجرخان پولیس کی بھاری نفری فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ پولیس نے مقتولین کی لاشوں کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر وہاں سے تمام ضروری سائنسی اور مادی شواہد (جیسے گولیوں کے خول وغیرہ) اکٹھے کر لیے ہیں تاکہ ملزمان تک پہنچا جا سکے۔
ابتدائی معلومات
پولیس ذرائع کے مطابق جھگڑا حویلی میں مویشی باندھنے کے معاملے پر تلخ کلامی سے شروع ہوا تھا۔
پولیس کے مطابق مقتول ارشد محمود کے بھائی محمد منیر کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں ماسٹر عاطف اور اس کے بھائی مدثر رفیق کو نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمہ قتل اور اعانتِ جرم کی متعلقہ دفعات کے تحت درج ہوا ہے، جبکہ پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے شروع کردئیے ہیں
سی پی او راولپنڈی کا نوٹس اور اعلیٰ حکام کو ہدایات
راولپنڈی پولیس کے سربراہ (سی پی او) حسن مشتاق سکھیرا نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی انویسٹی گیشن، ایس پی صدر اور اے ایس پی گوجرخان کو فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچنے کے احکامات جاری کیے۔ سی پی او نے اعلیٰ پولیس افسران کو ہدایت کی ہے کہ اس سنگین واردات میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور انہیں جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔
اہل علاقہ کا کیس سی ٹی ڈی کے حوالے کرنے کا مطالبہ
قتل کی اس لرزہ خیز واردات کے بعد علاقہ میں شید خوف و ہراس پھیل گیا،اہل علاقہ نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس افسوسناک قتل کے کیس کی تحقیقات سی ٹی ڈی کے حوالےکرکے ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے