غزہ شہر کے جنوبی علاقے الصبرہ میں سول ڈیفنس ٹیموں نے مسلسل136 گھنٹے سے جاری انتہائی مشکل اور صبر آزما ریسکیو آپریشن کے بعد ایک تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے ایک ہی خاندان کے 112 افراد کی لاشیں نکال لی ہیں۔
ریسکیو اہلکاروں کے مطابق زیادہ تر امدادی کام بغیر کسی بھاری مشینری کے، صرف ہاتھوں سے ملبہ ہٹا کر سرانجام دیا گیا۔ برآمد ہونے والے شہداء میں40 سے زائد بچے اور38 خواتین شامل ہیں۔
ریسکیو آپریشن کے نگران کرنل محمد ابو دان نے بتایا کہ مزید 157 لاشیں بھی ملبے تلے دبی ہوسکتی ہیں تاہم ٹیمیں تاحال انہیں تلاش نہیں کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ امدادی ٹیموں کو تلاش کے دوران شدید مشکلات کا سامنا رہا کیونکہ انہیں ملبے میں اپنے ہاتھوں سے کھدائی کرنی پڑی۔
کرنل محمدابو دان کے مطابق بعض لاشیں اور باقیات کنکریٹ اور سریے میں بری طرح پھنسی ہوئی تھیں جو استعمال ہونے والے میزائلوں کی شدت اور تباہ کن اثرات کو ظاہر کرتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ شدید دھماکوں کے باعث کئی لاشیں مکمل طور پر تحلیل یا جل چکی ہیں جو بین الاقوامی سطح پر ممنوع ہتھیاروں کے استعمال کی نشاندہی کرتی ہیں۔
انہوں نے عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ مناسب مشینری اور آلات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے اور ملبے تلے دبی لاشوں کی تلاش کا عمل جاری رکھا جا سکے۔