آزاد کشمیر کے امن و استحکام اور کشمیری عوام کے حقوق کے خلاف سرگرم کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا ریاست مخالف ایجنڈا ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق غیور کشمیری عوام کی جانب سے مذکورہ کمیٹی کے بیانیے کو مکمل طور پر مسترد کیے جانے کے بعد بھارت نے مبینہ طور پر اس کی حمایت میں کھلے عام اقدامات شروع کر دیے ہیں۔۔
بھارتی میڈیا پر اس کالعدم کمیٹی کے موقف کی تشہیر کے بعد قابض بھارتی فوج نے بھی پاکستان مخالف جذبات ابھارنے کے لیے لائن آف کنٹرول کے قریب کیرن سیکٹر میں بڑی سکرینوں پر کمیٹی اور اس کے سرغنہ امان کی حمایت میں ویڈیوز نشر کیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 13 اور 14 اگست یعنی پاکستان کے یومِ آزادی کے موقع پر ایل او سی سے محض 75 میٹر کے فاصلے پر یہ مواد چلایا گیا، جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو چکی ہیں۔ دفاعی و سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بھارت کی جانب سے اس بیانیے کو نمایاں کرنا دونوں کے باہمی مفادات اور گٹھ جوڑ کا واضح ثبوت ہے۔
آزاد کشمیر کے عوام نے یومِ آزادی بھرپور جوش و خروش سے منا کر دشمن کے بیانیے کو ناکام بنا دیا ہے، جس کے بعد بھارت شدید بوکھلاہٹ کا شکار دکھائی دیتا ہے اور ایل او سی پر اس نوعیت کی اشتعال انگیز سرگرمیاں اس کی بے چینی اور ناکامی کی عکاسی کرتی ہیں۔