لاہور (خصوصی رپورٹ): پاکستان کے ثقافتی دارالحکومت لاہور کے ایک پوش علاقے میں دو غیر ملکی خواتین کو مبینہ طور پر اغوا، گینگ ریپ اور بھتہ خوری کا نشانہ بنانے کے ہولناک واقعے نے ملک کے سیاسی اور قانون نافذ کرنے والے حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم سمیت 4 افراد کو گرفتار کر کے 5 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔
مرکزی ملزم محمد رضا ڈار کو پاکستان کی اہم سیاسی شخصیت کے قریبی رشتے دار (مبینہ نواسہ) بتایا جا رہا ہے۔
کرپٹو کرنسی کا جھانسا اور اغوا کا جال
ذرائع کے مطابق، متاثرہ خواتین (جن میں سے ایک کا تعلق نیدر لینڈز/اسپین اور دوسری کا وینزویلا سے ہے) کی ملاقات گزشتہ برس اکتوبر 2025 میں سنگاپور میں مرکزی ملزم رضا ڈار سے ہوئی تھی، جہاں وہ کرپٹو کرنسی کے ایک کاروباری منصوبے میں شراکت دار بنے۔
ملزم نے خواتین کو مزید سرمایہ کاری کا جھانسا دے کر بزنس ویزے پر پاکستان بلایا۔ خواتین 29 جون کو لاہور پہنچیں، جہاں پہنچتے ہی انہیں مبینہ طور پر اغوا کر کے ایک رہائش گاہ پر محبوس کر دیا گیا اور ان کی رہائی کے بدلے 15 لاکھ امریکی ڈالر (تقریباً 45 کروڑ پاکستانی روپے) تاوان کا مطالبہ کیا گیا۔
متاثرہ خاتون کا مجسٹریٹ کے سامنے تہلکہ خیز بیان
متاثرہ غیر ملکی خاتون نے مقامی مجسٹریٹ کے سامنے دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کروائے گئے اپنے بیان میں ہولناک انکشافات کیے ہیں۔ خاتون کے مطابق:
پہلی ہی رات 4 مسلح افراد نے آ کر انہیں رسیوں سے باندھ دیا۔
مزاحمت کرنے پر خواتین کے چہروں پر گھونسے مارے گئے اور پستول کے بٹ سے سر پر وار کیا گیا۔
خواتین کو ڈراتے ہوئے کہا گیا کہ “اگر پیسے نہ دیے تو زندہ نہیں جاؤ گی”۔
متاثرہ خاتون نے تصدیق کی کہ کالے کپڑوں میں ملبوس ملزم انہیں دوسرے فلور پر لے گیا اور رونے دھونے اور منت سماجت کے باوجود متعدد بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
بین الاقوامی مداخلت اور ریسکیو آپریشن
اس ہائی پروفائل کیس کا ڈراپ سین اس وقت ہوا جب ایک متاثرہ خاتون کے والد نے اسپین سے ہنگامی طور پر پاکستانی حکام سے رابطہ کیا۔ لاہور پولیس نے جدید میونسپل سلیو لانس کیمروں اور تکنیکی ذرائع کی مدد سے لوکیشن ٹریس کی اور چھاپہ مار کر خواتین کو بحفاظت بازیاب کرایا۔
عدالت نے پولیس کی درخواست پر نامزد ملزم رضا ڈار، حسن رضا، سکندر خان اور ساجد علی کو 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرتے ہوئے 8 جولائی کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا ہے، جبکہ ایک اور مفرور ملزم کی تلاش جاری ہے۔
سیاسی ردِعمل اور استعفے کا مطالبہ
اس واقعے کے بعد ملک میں ایک نیا سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ سینیٹر فیصل واوڈا نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انتظامیہ اس حساس معاملے کو دبانے اور اسے “زیادتی” کے بجائے محض “بھتہ خوری” کا رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا: کہ اسحاق ڈار فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔ اس شرمناک الزام کے بعد وہ دنیا کے سامنے پاکستان کے جھنڈے تلے ملک کی نمائندگی کرنے کا جواز کھو چکے ہیں۔”
سفارتی ذرائع کے مطابق متعلقہ غیر ملکی سفارت خانے بھی اس کیس کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی حساسیت کے پیش نظر تمام زاویوں سے شفاف تحقیقات کی جا رہی ہیں۔