اسلام آباد مفاہمتی یادداشت:واشنگٹن میں شدید سیاسی تناؤ

سفارتی محاذ پر کامیابیوں کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شدید برہم ہیں۔ امریکی سینیٹ نے ریپبلکن اکثریت کے باوجود 48 کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکنے سے متعلق مشترکہ وار پاورز قرارداد منظور کر لی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ووٹنگ کو “بے وقت اور بے معنی” قرار دیتے ہوئے کہا:

“میں نے ایران کو مکمل دباؤ میں لے رکھا تھا اور وہ شکست کے دہانے پر کھڑا ہے۔ سینیٹ نے یہ قرارداد منظور کر کے مجھے روکنے اور دشمن کی مدد کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم، میں اپنا کام ہر ممکن طریقے سے مکمل کر کے رہوں گا۔”

اگرچہ صدر ٹرمپ نے ایران کو معاہدے کی خلاف ورزی پر دوبارہ سخت کارروائی کی دھمکی دی ہے، تاہم انہوں نے تصدیق کی کہ ایران سخت جوہری معائنوں پر راضی ہو گیا ہے اور فی الحال بحری ناکہ بندی جاری نہیں رکھی جائے گی۔

امریکی عوام نے ایران میں ٹرمپ کی تاریخی غلطی کی قیمت چکائی ہے: چک شومر

امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹ رہنما چک شومر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے ایران جنگ سے امریکی عوام کو کنفیوژن، افراتفری اور بھاری قیمت کے سوا کچھ نہیں دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے ہر سیکنڈ کے ساتھ امریکی عوام کے اخراجات بڑھتے جا رہے ہیں، امریکی عوام نے ایران میں ٹرمپ کی تاریخی غلطی کی قیمت چکائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تاریخ میں امر یکا بلکہ کسی بھی ملک کی جانب سے کی گئی بدترین خارجہ پالیسی کی مہم کے طور پر درج ہوگی، یہ مضحکہ خیز اور مہنگی جنگ ہے، جس کا کوئی مقصد نہیں۔

چک شومر کا کہنا تھا کہ ایران جنگ کا خاتمہ ہونا چاہیے، ٹرمپ کو یہ جنگ کبھی شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی۔

آبنائے ہرمز عالمی گزرگاہ، کوئی ٹول ٹیکس وصول نہیں کر سکتا: امریکا

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ کسی بھی ملک کو آبنائے ہرمز میں جہازوں سے ٹول وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

ابوظہی میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت کسی ملک کو اس پر ٹول یا فیس عائد کرنے کا حق حاصل نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر خطے میں کسی کو قائل کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ سب کا اس پر اتفاق ہے، جب تک ایران کے حمایت یافتہ گروہ عراق سے میزائل اور ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اس وقت تک تنازع کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں، یہ معاملہ مذاکرات میں زیر بحث آئے گا، ایران انقلابی تحریک کے بجائے عام ریاست بننے کا فیصلہ کرے تو ترقی کے بڑے مواقع مل سکتے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے منگل کے روز متحدہ عرب امارات سے خلیجی دورے کا آغاز کیا، اس دوران وہ کویت اور بحرین بھی جائیں گے۔

ایران کا عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کو حملوں سے متاثرہ جوہری پلانٹس کا معائنہ کرانے سے انکار

ایران نے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی ( آئی اے ای اے) کو حملوں سے متاثرہ جوہری پلانٹس کا معائنہ کرانے سے انکار کر دیا۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران آئی اے ای اے کو امریکی و اسرائیلی حملوں سے متاثرہ فردو ، نطنز اور اصفہان کی ایٹمی تنصیبات کے معائنے کی اجازت نہیں دے گا ۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے سوئٹزرلینڈ میں ڈی جی آئی اے ای اے سے ملاقات کی بھی تردید  کی۔

اس کے علاوہ منجمد اثاثوں کے باے میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ منجمد فنڈز کے استعمال سے متعلق ایران کو کسی قسم کی پابندی کا سامنا نہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیاکہ ایران اپنی ایٹمی تنصیبات کے مکمل معائنے پر رضامند ہے، اگر ایران راضی نہ ہوتا تو مزید بات چیت ہی نہ ہوتی۔

امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ دوبارہ ناکا بندی کی ضرورت پڑی تو امریکی بحری جہاز اپنی جگہ موجود ہیں، ایسا نہیں لگتا کہ دوبارہ ناکا بندی کی ضرورت پڑے گی، بحال ایرانی اثاثے امریکاکے زیرکنٹرول بینک اکاؤنٹس میں رکھےجائیں گئے۔

Comments (0)
Add Comment