پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبے میں ڈیجیٹل تعلیمی اصلاحات سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں “پڑھو خیبر پختونخوا” منصوبے کے تحت نظام تعلیم میں انقلابی تبدیلی لانے اور آئندہ دو برسوں کے دوران شرح خواندگی میں 30 سے 35 فیصد اضافہ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت صوبے کا مکمل نصاب ڈیجیٹلائز کیا جائے گا تاکہ تمام درسی کتب اور تعلیمی مواد طلبہ کو موبائل فون پر دستیاب ہو سکے، جبکہ طلبہ انٹرنیٹ کے بغیر بھی آف لائن تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ اس نظام سے صوبے کے 90 فیصد گھرانوں میں موجود اسمارٹ فونز کو تعلیم کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ مزید برآں، 5 ارب روپے کی اس ایک مرتبہ کی سرمایہ کاری سے سالانہ 100 ارب روپے سے زائد کی بچت ممکن ہوگی اور سکول سے باہر لاکھوں بچوں، بالخصوص بچیوں، کو تعلیمی دھارے میں لانے میں مدد ملے گی۔
بریفنگ کے مطابق صوبے کے 50 سے زائد سکولوں میں آن لائن تدریس شروع کی جا چکی ہے اور اگست کے آخر تک 500 سکولوں کو ورچوئل لرننگ نظام سے منسلک کر دیا جائے گا۔ اس نئے نظام میں سائنس اور مختلف بین الاقوامی زبانوں (چینی، کوریائی، فرانسیسی، عربی، ہسپانوی اور انگریزی) کی ورچوئل لیبارٹریز شامل ہوں گی، جبکہ اردو، انگریزی اور پشتو زبان میں بھی تدریس فراہم کی جائے گی۔ ایک ہی پلیٹ فارم پر لائیو کلاسز، امتحانات، حاضری، ہوم ورک اور مصنوعی ذہانت کے تعاون سے ہر طالب علم کی پیش رفت کے مطابق ذاتی نوعیت کی تعلیم میسر ہوگی۔