اسلام آباد میں ہونے والی پہلی اکنامک سمٹ سے خطاب اور صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملکی ترقی کے لیے نئے انتظامی یونٹوں یا صوبوں کے قیام کو ناگزیر قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جس نظام کے تحت ہم اس وقت چل رہے ہیں وہ مکمل طور پر گر چکا ہے اور اس میں موجودہ مسائل کا حل ممکن نہیں۔ اگر اس بنیادی نظام کو ری سیٹ نہ کیا گیا تو دس سال بعد بھی ہم انہی مسائل پر بات کر رہے ہوں گے، جبکہ ہر سال ملک کے قرضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ ملک کو صحیح سمت میں گامزن کرنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں بشمول مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کو مل بیٹھ کر فیصلے کرنے ہوں گے اور اس معاملے کو عوام کے پاس لے جانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف دن رات کام کر کے فائر فائٹنگ کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن جب تک سیاستدان مل کر نظام ٹھیک نہیں کریں گے، فیلڈ مارشل سمیت کسی کی محنت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
محسن نقوی نے مزید کہا کہ وہ صدارتی نظام کی بات نہیں کر رہے اور تمام تر سیاسی امور کے باوجود حکومت اپنی مدت پوری کرے گی جبکہ اپنے عہدے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ وہ وفاقی وزیر داخلہ کی حیثیت سے ہی اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیتے رہیں گے۔