وفاقی آئینی عدالت کا ریٹائرڈ ملازمین کے حق میں بڑا فیصلہ

وفاقی آئینی عدالت کا ریٹائرڈ ملازمین کے حق میں بڑا فیصلہ: پنشن اور مراعات کو بنیادی قانونی حق قرار دے دیا

عدالت کی جانب سے جسٹس ارشد حسین کا تحریر کردہ 9 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا گیا، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ پنشن اور پنشنری مراعات کسی بھی مجاز عدالت کے حکم کے بغیر نہیں روکی جا سکتیں۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پنشن اور مراعات کی ادائیگی میں غیر ضروری تاخیر قانون کی شدید خلا ورزی ہے اور آئندہ ایسی تاخیر کو توہینِ عدالت تصور کیا جائے گا۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ اعلیٰ عدلیہ پہلے بھی پنشن کی وقت پر ادائیگی اور مراعات میں تاخیر کے خلاف متعدد فیصلے دے چکی ہے، اس لیے ریٹائرڈ ملازمین کے حقوق کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر کسی عدالتی حکم کے خلاف بروقت اپیل یا نظرثانی دائر نہ کی جائے تو اسے حتمی تصور کیا جاتا ہے، اور تاخیر سے دائر کی جانے والی نظرثانی کو بعد میں آئینی درخواست کے ذریعے چیلنج نہیں کیا جا سکتا کیونکہ قانونی چارہ جوئی کو بالآخر کسی نقطے پر اختتام پذیر ہونا ہی ہوتا ہے۔

اسی کیس کے سلسلے میں وفاقی آئینی عدالت نے ایک نجی بینک کو برطرف ڈیلی ویجز ڈرائیور محمد اکرم کو تمام سابقہ مراعات سمیت بحال کرنے کے فیصلے پر فوری عملدرآمد کا حکم دیا اور 17 سال گزرنے کے باوجود لیبر کورٹ کے فیصلے پر عمل نہ ہونے کو انتہائی تکلیف دہ قرار دیا۔

Comments (0)
Add Comment