بلند اخلاق اور عظمتِ مصطفیٰﷺ انسان کی حقیقی کامیابی و کامرانی کا راز بلند اخلاق اور اعلیٰ کردار میں پوشیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں حضرت محمدﷺ کی شان بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ “یقیناً آپ بلند پایہ اخلاق پر فائز ہیں” (القلم: 4)۔ آپﷺ کی حیاتِ طیبہ ہر دور کے انسان کے لیے ہدایت اور اصلاح کا سب سے روشن آئینہ ہے۔
سخاوت اور فیاضی کا روشن مینار آپﷺ کی ذات مبارکہ سخاوت کا بے مثال نمونہ تھی۔ آپﷺ نے کبھی کسی سائل کو خالی ہاتھ نہیں موڑا اور دوسروں کی بھلائی کے لیے اپنی ضرورت کی اشیاء بھی صدقہ فرما دیتے تھے۔ احادیثِ مبارکہ میں آیا ہے کہ جب بھی آپﷺ سے کچھ مانگا گیا، آپﷺ نے کبھی “نہ ” نہیں فرمایا۔ آپﷺ کا اسوہ سکھاتا ہے کہ دوسروں کی مدد کرنا دائمی سعادت کا ذریعہ ہے۔
عاجزی، انکساری اور سادہ بود و باش سید الکونین اور امام الانبیاء ہونے کے باوجود آپﷺ نہایت منکسر المزاج تھے۔ آپﷺ صحابہ کرامؓ کے ساتھ بغیر کسی امتیاز کے گھل مل کر رہتے تھے اور کوئی سکیورٹی یا دربان مانع نہیں ہوتا تھا۔ آپﷺ زمین پر بیٹھ کر کھانا تناول فرماتے اور غریب سے غریب شخص یا غلام کی دعوت بھی خوش دلی سے قبول کر لیتے تھے۔ فتح مکہ کے موقع پر بھی آپﷺ کی عاجزی کا یہ عالم تھا کہ آپﷺ کی مبارک ٹھوڑی سواری کے کجاوے کو چھو رہی تھی۔
رحمدلی اور عفو و درگزر آپﷺ سراپا شفقت و مہربانی تھے۔ قرآنِ مجید کے مطابق آپﷺ کی نرم دلی ہی وہ وصف تھا جس نے لوگوں کو آپ کے گرد جمع کر رکھا تھا۔ آپﷺ نماز کے دوران کسی بچے کے رونے کی آواز سنتے تو والدہ کی تکلیف کے خیال سے نماز مختصر فرما دیتے تھے۔ اس کے علاوہ، معذرت کے ساتھ آنے والوں کو معاف فرمانا اور جاہلوں کی سخت کلامی پر بردباری کا مظاہرہ کرنا آپﷺ کا دائمی معمول تھا۔
حسنِ معاشرت اور حقوق العباد کی پاسداری آپﷺ نے گھر کے اندر اور باہر دونوں جگہ بہترین اخلاق کا مظاہرہ فرمایا۔ گھر میں اپنے اہل و عیال کے کام کاج میں ان کا ہاتھ بٹاتے تھے اور جب بھی کسی صحابی سے ملتے تو مسکراتے ہوئے ملتے تھے۔ معاملات اور حقوق العباد کی ادائیگی میں آپﷺ قرض کا تقاضا کرنے والوں کے ساتھ بھی نرمی فرماتے اور قرض کی واپسی پر واجب الادا رقم سے بھی زیادہ عطا فرما کر ان کے لیے خیر و برکت کی دعا کرتے تھے۔