سانحہ پمز،قومی اسمبلی و سینیٹ میں پارلیمانی کمیٹی بنانے کی قرارداد منظور

اسلام آباد: قومی اسمبلی اور سینیٹ میں سانحہ پمز پر پارلیمانی کمیٹی بنانے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی ہے۔ سینیٹ میں یہ تحریک سینیٹر شیری رحمان کی جانب سے پیش کی گئی، جبکہ قومی اسمبلی میں چیئرمین پارلیمانی کاکس برائے حقوق اطفال بیرسٹر دانیال نے قرارداد پیش کی۔

ایوان نے آتشزدگی کے المناک واقعے میں معصوم بچوں کی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے غفلت کے ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی اور ہسپتالوں بالخصوص بچوں کے وارڈز میں فائر سیفٹی کے سخت اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

ایوان میں ہونے والی بحث کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان شدومد سے تبادلہ خیال ہوا، جس میں واقعہ کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی تاکید کی گئی۔ اپوزیشن رہنما اسد قیصر نے وفاقی وزیر صحت اور وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا، جبکہ بیرسٹر گوہر نے الزام عائد کیا کہ حادثے کے وقت عملہ موجود نہیں تھا اور بچوں کو بند وارڈ میں چھوڑ دیا گیا تھا۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت پر بھی زور دیا۔

حکومت کی جانب سے ردعمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایوان کو آگاہ کیا کہ جاں بحق بچوں کے لواحقین کے لیے فی خاندان 50 لاکھ روپے مالی امداد کا اعلان کیا گیا ہے۔ انہوں نے شفافیت یقینی بنانے کے لیے پارلیمانی کمیٹی کی کارروائی کھلے عام چلانے کی تجویز بھی دی۔

دوسری جانب قائمہ کمیٹی برائے صحت کے چیئرمین ڈاکٹر مہیش کمار نے انکشاف کیا کہ دورے کے دوران ڈاکٹروں اور نرسوں کے بیانات میں تضاد پایا گیا، جس کی مکمل اور دائرہ کار میں تحقیقات جاری ہیں۔

Comments (0)
Add Comment