امریکہ ،ایران میں تناؤ بڑھنے سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں

مشرقِ وسطیٰ میں بگڑتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال اور امریکہ و ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کے براہِ راست اثرات عالمی معشت پر مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں فوری طور پر ایک ڈالر فی بیرل سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث برینٹ خام تیل 1.08 ڈالر کے اضافے کے بعد 89.18 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 92 سینٹ کے اضافے کے ساتھ 84.32 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے

امریکہ حملہ اور ایران کی جوابی کاروائی

حالیہ تنازع کی تازہ لہر اس وقت شروع ہوئی جب امریکی فورسز نے ایرانی جزیرے لارک پر فضائی حملہ کر کے پاسدارانِ انقلاب کے دو راکٹ لانچرز کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اس حملے میں کئی ایرانی اہلکار اور عام شہری شہید و زخمی ہوئے۔ اس کے ردِعمل میں ایران نے تہران کی جانب سے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اردن میں قائم امریکی فوجی اڈوں اور وہاں تعینات فورسز کو نشانہ بنایا، جس سے علاقے میں طویل کشیدگی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

خطے میں کشیدگی سے عالمی سطح پر مہنگائی کے نئے طوفان کا خدشہ

معاشی و جیو پولیٹیکل تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے کی صورتحال انتہائی حساس اور غیر یقینی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر تیل کی فراہمی کے اہم بحری راستے متاثر ہوتے ہیں تو قیمتوں میں یہ اضافہ محض چند دنوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یہ تناؤ آنے والے کئی ہفتوں تک برقرار رہ سکتا ہے، جس سے عالمی سطح پر مہنگائی کا نیا طوفان آنے کا امکان ہے۔

Comments (0)
Add Comment