مکہ دفاعی معاہدے کی اسٹریٹجک کمیٹی کا پہلا اجلاس استنبول میں شروع

پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مشترکہ “مکہ دفاعی معاہدے” کے تحت قائم کی گئی اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کا پہلا باضابطہ اجلاس ترکیہ کے شہر استنبول میں منعقد ہو رہا ہے۔ اجلاس میں شرکت کے لیے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور وزیرِ دفاع خواجہ آصف پر مشتمل اعلیٰ سطح کا پاکستانی وفد استنبول پہنچ گیا ہے۔

اس سہ فریقی اجلاس میں ترکیہ اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور چیفس آف جنرل اسٹاف بھی شرکت کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کے ایجنڈے میں بین الاقوامی اور علاقائی سلامتی کے امور سرِ فہرست ہیں۔ اس موقع پر تینوں ممالک کے درمیان مسلح افواج کی ہم آہنگی، دفاعی صلاحیتوں کی مضبوطی، اور دفاعی صنعت میں مشترکہ پیداوار و تیاری سمیت تعاون کو مزید گہرا کرنے کے طریق کار پر غور کیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کی اسٹریٹجک شراکت داری مشترکہ خوشحالی اور سیکیورٹی کی ضامن ہے، جبکہ مکہ معاہدے نے اس اسٹریٹجک بھائی چارے کی تصدیق کی ہے جو تینوں ممالک کے مشترکہ تحفظ اور دفاعی قوت کی راہ ہموار کرتا ہے۔7 اگست کو طے پانے والے اس التماسی معاہدے میں واضح کیا گیا تھا کہ نیٹو کے آرٹیکل 5 کی طرز پر کسی بھی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

Comments (0)
Add Comment