دنیا کی سب سے مقبول میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے اپنے صارفین کو سیکیورٹی اور پرائیویسی فراہم کرنے کے لیے ایک اور بڑا قدم اٹھایا ہے۔
کمپنی نے صارفین کو آن لائن فراڈ اور اسکامز سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک نیا “اسکام الرٹ” فیچر آزمائشی طور پر متعارف کرایا ہے، جو فی الحال اینڈرائیڈ کے بیٹا ورژن میں دستیاب ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اس فیچر کا بنیادی مقصد نامعلوم نمبرز اور سسپیکٹڈ اکاؤنٹس سے موصول ہونے والے ممکنہ دھوکے پر مبنی پیغامات کے حوالے سے صارفین کو فوری اور بروقت خبردار کرنا ہے۔
یہ نیا فیچر نامعلوم افراد کی جانب سے بھیجے گئے مشکوک پیغامات کی شناخت کرے گا اور براہِ راست چیٹ میں ہی انتباہی الرٹ ظاہر کرے گا۔ اس الرٹ کی مدد سے صارفین آسانی سے یہ فیصلہ کر سکیں گے کہ آیا وہ اس اکاؤنٹ کو بلاک اور رپورٹ کریں یا پھر اس چیٹ کو محفوظ سمجھ کر بات چیت جاری رکھیں۔
کمپنی کے مطابق یہ فیچر خودکار طور پر کسی پیغام یا چیٹ کو روکے گا نہیں، بلکہ صارفین کو اضافی معلومات فراہم کر کے بااختیار بنائے گا تاکہ وہ خود کسی بھی مالی یا ذاتی نقصان سے بچنے کے لیے صحیح اور بروقت فیصلہ کر سکیں۔
صارفین کی پرائیویسی کو یقینی بنانے کے لیے میٹا نے اس فیچر میں جدید ترین مشین لرننگ ماڈل کا استعمال کیا ہے جو ڈیوائس کے اندر ہی پیغامات کا جائزہ لیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغامات کا مواد یا ڈیٹا کمپنی کے کسی سرور پر منتقل نہیں ہوگا، جس سے واٹس ایپ کی اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن مکمل طور پر محفوظ رہے گی۔
یہ اختیاری فیچر بائی ڈیفالٹ بند رہے گا، جسے اینڈرائیڈ صارف واٹس ایپ کی سیٹنگز میں جا کر اکاؤنٹ کے اپشن سے فعال کر سکیں گے۔ فی الحال یہ فیچر بیٹا ٹیسٹنگ کے مرحلے میں ہے، اور جلد ہی اسے دنیا بھر کے تمام عام صارفین کے لیے ریلیز کیے جانے کا امکان ہے۔