پمز ہسپتال میں آتشزدگی سے 14 نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت کے المناک واقعے کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک نئی آئینی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔
سپریم کورٹ کے وکیل نثار اے مجاہد کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر کی گئی اس درخواست میں وفاق، وزارت صحت، وزارت داخلہ، پمز، سی ڈی اے اور آئی جی اسلام آباد سمیت 13 اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بجلی اور ایئر کنڈیشنر کی خرابی کے باعث لگنے والی آگ میں بے بس نوزائیدہ بچے خود کو بچانے سے قاصر تھے، جبکہ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کی زندگی اور وقار کا تحفظ ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے انجینئرز اور طبی ماہرین پر مشتمل ایک آزاد کمیٹی تشکیل دی جائے، ہسپتال کا تمام سی سی ٹی وی ریکارڈ، ڈیوٹی روسٹر اور مینٹیننس ڈیٹا فوری طور پر محفوظ کیا جائے، اور تمام وفاقی ہسپتالوں کا جامع فائر و سیفٹی آڈٹ کروایا جائے۔
اس کے علاوہ درخواست میں ہسپتالوں کے لیے لائف سیفٹی اینڈ ایمرجنسی پریپیرڈنس فریم ورک کے نفاذ، مخصوص ایمرجنسی سیفٹی افسران کی تعیّنی، باقاعدہ فائر ڈرلز، ایمرجنسی راستوں اور فائر ڈورز کی فوری بحالی، نیز بجلی، آکسیجن، جنریٹر اور یو پی ایس سسٹمز کے باقاعدہ معائنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے ان احکامات پر عملدرآمد کے لیے کیس کی مسلسل نگرانی کا نظام برقرار رکھنے کی بھی اپیل کی ہے۔