پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے عمران خان پر حملے کے مقدمے کیلئے سپریم کورٹ لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ رجسٹری میں آئینی درخواست دائر کر دی جس میں نامزد ملزمان کے نام شامل نہ کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا ہے۔
درخواست شاہ محمود قریشی، عثمان بزدار، شفقت محمود اور دیگر اراکین پارلیمان نے دائر کی، درخواست میں اعظم سواتی کے واقعے پر کارروائی کرنے اور ارشد شریف کے پسماندگان کی داد رسی کی استدعا بھی کی گئی ہے۔
عثمان بزدار نے درخواست ڈپٹی رجسٹرار سپریم کورٹ اعجاز گورائیہ کے پاس جمع کروائی، ڈپٹی رجسٹرار نے تحریک انصاف کی آئینی درخواست وصول کر کے درخواست کا ڈائری نمبر فراہم کر دیا۔
درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں نے جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواست دائر کی ہے، سپریم کورٹ ان معاملات پر سوموٹو نوٹس لیکر کاروائی کرے۔
پی ٹی آئی نے مختلف واقعات کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں بھی درخوات دائر کر دی، درخواست پر 26 ایم این ایز اور ایم پی ایز کے دستخط موجود ہیں۔
جمع کروائی گئی درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ عمران خان پر حملہ، اعظم سواتی کی مبینہ ویڈیو اور ارشد شریف کے قتل کی عدالتی تحقیقات کروائی جائیں، اب تمام واقعات کیلئے جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے، سابق وزیر اعظم عمران خان پر قاتلانہ حملے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کروائی جائے۔
اس سے قبل سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے کہا ہے کہ اقتدار سے ہٹائے جانے کے لیے اب میں امریکی انتظامیہ کو مزید مورد الزام نہیں ٹھہراتا۔
برطانوی اخبار ’فنانشل ٹائمز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ امریکا اور پاکستان کے درمیان باوقار تعلقات چاہتے ہیں۔ مبینہ سازش کے حوالے سے جہاں تک میرا خیال ہے یہ معاملہ اب ختم ہوچکا ہے، میں آگے بڑھ چکا ہوں۔ امریکا کے ساتھ ہمارا تعلق آقا اور غلام جیسا رہا ہے اور ہمیں کرائے کی بندوق کی طرح استعمال کیا گیا، لیکن اس کے لیے میں امریکا سے زیادہ اپنی حکومتوں کو مورد الزام ٹھہراتا ہوں۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے اعتراف کیا کہ روس کے یوکرین پر حملے سے ایک روز قبل دورہ ماسکو شرمندگی کا باعث بنا، تاہم انہوں نے کہا کہ اس دورے کا اہتمام مہینوں پہلے کیا جاچکا تھا۔
فوج کے کردار کے بارے میں انہوں نے کہا کہ فوج مستقبل میں پاکستان کے لیے تعمیری کردار ادا کر سکتی ہے۔