اب امریکی جارحیت کا جواب شدید اور وسیع ہوگا,ایرانی فوج کا نیا انتباہ

تہران: ایرانی فوج نے اعلان کیا ہے کہ ملک کی مجموعی عسکری اور دفاعی حکمتِ عملی کو روایت سے ہٹ کر جارحانہ انداز میں تبدیل کر دیا گیا ہے، اور آئندہ کسی بھی غیر ملکی یا امریکی پیش قدمی کا جواب پہلے کے مقابلے میں انتہائی تیز، سخت اور وسیع پیمانے پر دیا جائے گا۔

ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے ایک انٹرویو کے دوران اس اہم پیش رفت کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اس نئے عسکری نظریے کا مقصد دشمن کو ہر قسم کے حملے سے پہلے ہی مفلوج اور باخبر کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اردن میں واقع امریکی فوجی اڈے پر حالیہ کارروائی اسی پیشگی اور جارحانہ حکمتِ عملی کا ایک عملی نمونہ تھی، جہاں دشمن کے باقاعدہ جنگ میں داخل ہونے سے قبل ہی اس کے ٹھکانوں کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔

دفاعی ترجمان بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نیک کے مطابق ایران نے گزشتہ ایک سال کے دوران اپنی تمام تر دفاعی پیداوار کو دوگنا کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حالیہ تصادم کے دوران بعض پیداواری مراکز اور صنعتی حصوں کو نقصان پہنچنے کے باوجود اسلحے، گولہ بارود اور جدید عسکری نظام کی فراہمی میں کوئی تعطل نہیں آیا بلکہ بعض اہم ہتھیاروں کی پیداوار میں تین گنا سے بھی زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ایرانی عسکری حکام نے پیغام دیا ہے کہ 1979 کے انقلاب کے وقت ملک میں صرف 31 بنیادی دفاعی مصنوعات تیار کی جاتی تھیں، جبکہ آج ایران ایک ہزار سے زائد جدید دفاعی و جنگی سسٹمز اپنے طور پر تیار کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، جس کی بدولت ملک اب کسی بھی طویل مدتی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔

Comments (0)
Add Comment