ملک بھر میں آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر عوام کی قوت خرید جواب دینے لگی ۔ شہریوں نے وفاقی و صوبائی حکومت سے فوری اقدامات کا مبطالبہ کیا ہے۔
ملک میں نہ صرف گندم اور آٹے کی قیمت بڑھ گئی بلکہ سبسیڈائزڈ آٹے کی بھی قلت پیدا ہوگئی۔بجلی، پٹرول، سبزی اور گوشت کی قیمتوں کے ستائے شہریوں کیلئے روٹی کے 2 نوالے کھانا بھی مشکل تر ہوگیا۔
ڈیپو مالکان کہتے ہیں کہ آٹے کی بہت تھوڑی مقدار میں سپلائی آتی ہے جو آتے ہی ختم ہو جاتی ہے جبکہ عام دکانوں پر کمرشل آٹے کا 15 کلو والا تھیلا 1600 روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اتنا مہنگا آٹا کیسے خریدیں؟ پہلے عام دکانوں سے کھلا آٹا مل جاتا تھا، اب دکاندار کھلا آٹا بھی دینے کو تیار نہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ چکی مالکان اس سے بھی مہنگا آٹا بیچ رہے ہیں، انہوں نے آٹا 116 روپے فی کلو کر دیا ہے، کہتے ہیں کہ گندم 500 روپے فی من مہنگی ہوگئی ہے تو وہ سستا آٹا نہیں بیچ سکتے۔