اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ توہین عدالت کیس میں عمران خان کو موقع فراہم کیا گیا، تاثر پایا جاتا ہے وہ کچھ حلقوں کے لاڈلے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ عوام توقع رکھتے ہیں کہ اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے مساویانہ ہونگے، انصاف کے پیمانے ایک جیسے ہونے چاہئیں، توہین عدالت کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان کا جواب ملاحظہ کرنے کے بعد عدالت نے نرم دلی کامظاہرہ کیا، موقع فراہم کیا۔ تاثر پایا جاتا ہے کہ سابق وزیراعظم کچھ حلقوں کے لاڈلے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کوتوہین عدالت کے مقدمے میں وزارت عظمیٰ سے فارغ کیا گیا تھا، گیلانی کی اسمبلی کی رکنیت بھی ختم ہوئی، توہین عدالت کے مرتکب شخص کو سزا دیئے بغیر نہیں چھوڑا جا سکتا، طلال چودھری، دانیال عزیز اور نہال ہاشمی توہینِ عدالت کے مقدمات میں نااہل ہوئے، عدالت نے نرم دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک اورجواب داخل کرنے کا کہا تاکہ راستہ مل سکے۔
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ نہال ہاشمی کو توہین عدالت کے مقدمے میں جیل بھی بھگتنا پڑی،قوانین پر صیح معنوں میں عملدرآمد ریاست کے بقا کے فائدے میں ہے، خاتون جج کو جلسوں میں للکارا گیا،خاتون جج کسی کی بیٹی اور کسی کی ماں، بہن بھی ہیں، ایک ایسا شخص جو وزیراعظم کے منصب پر فائز رہا ہو اس کی گفتگومیں لہجہ نرم ہونا چاہیے، خان صاحب شائد اینگری اولڈ مین ہیں، جذبات کے بہاؤمیں کسی ادارے کونہیں چھوڑتے، چیف الیکشن کمشنراوران کے ممبران کودھمکیاں بھی انتہائی تکلیف دہ ہیں، امید کرتا ہوں اس کیس میں بھی ماضی کے اسی معیارکوسامنے رکھا جائے گا۔