حیدرآباد میں شہری کی ہلاکت کے بعد کراچی سمیت مختلف علاقوں میں مظاہرے

حیدر آباد میں جھگڑے کے دوران ایک شخص کی ہلاکت کے بعد کشیدگی کراچی سمیت صوبے کے مختلف علاقوں تک پھیل گئی ہے۔

12 اور 13 جولائی کی درمیانی رات حیدر آباد بائی پاس پر واقع ایک ہوٹل میں جھگڑے کے دوران بلال کاکا نامی شخص ہلاک جب کہ کئی زخمی ہوگئے تھے۔

واقعے کے بعد حیدر آباد، مٹیاری، نواب شاہ، دوڑ، سکرنڈ، ٹنڈو جام، ٹنڈو محمد خان، سکھر اور کراچی کے کچھ علاقوں میں کشیدگی پھیل گئی۔ مشتعل افراد نے کاروبار بند کرادیا۔

کراچی میں سہراب گوٹھ اور کالا بورڈ پر مشتعل افراد نے احتجاج کیا ہے اور ٹریفک بلاک کردی ہیں۔ ٹریفک کو متبادل راستوں کی جانب موڑا جارہا ہے۔

حیدر آباد کے مختلف علاقوں میں کاروبار مکمل طور پر بند رہا۔ شہر میں رینجرز کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ کی اپیل

سہراب گوٹھ پر احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے واقعے کا وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے نوٹس لے لیا۔ کہتے کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیں گے۔

وزیراعلیٰ نے مشعل افراد کو پرامن رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو بھی کہا کہ مظاہرین کر پرامن طریقے سے منتشر کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ وقت آپس میں مقابلے کا نہیں بلکہ ایک دوسرے کو سنبھالنے کا ہے، یہ سازش ہے اس سازش کو کامیاب نہ ہونے دیا جائے۔

مقدمے کا اندراج

حیدر آباد کے بھٹائی نگر پولیس اسٹیشن میں مقتول کے بھائی سلام ولد دھنی بخش کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا۔ ملزمان پر قتل اور اقدام قتل سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

سلام کی جانب سے درج درخواست میں کہا گیا کہ وہ نجی یونی ورسٹی میں گارڈ ہے، 12 اور 13 جولائی کی درمیانی رات اسے اپنے دوست عامر ولد نور محمد چانڈیو نے بتایا کہ اس کے بھائی بلال کاکا اور اس کے دیگر دوستوں کو ہوٹل والوں نے زخمی کردیا ہے۔

مدعی کا کہنا تھا کہ بلال کاکا اور اس کے ساتھیوں کو سول اسپتال لے جایا گیا، جہاں اس نے دیکھا اس کے بھائی کی لاش اسٹریچر پر پڑی ہے اور اس کے سر کے دائیں حصے سے مسلسل خون بہہ رہا ہے۔

اسپتال میں بلال کے زخمی دوستوں سرفراز عرف جانی، عمران ملک، ذیشان جمالی اور وقار پاتولی نے بتایا کہ وہ اس کے بھائی کے ہمراہ کھانا کھانے آئے تھے، وہاں ان کے ساتھ ہوٹل کے مالک کے بیٹے بختیار نے بدتمیزی کی۔

انہوں نے اس کی شکایت ہوٹل کے مالک شہسوار سے کی تو اس نے جواب دیا کہ کھانا کھانا ہے تو کھاؤ ورنہ ہوٹل خالی کرو۔ اسی دوران ان میں اور ہوٹل مالکان میں تلخ کلامی ہوئی، اتنے میں شہسوار کا دوسرا بیٹا ملہار بھی ان کے پاس پہنچ گیا۔ شہسوار، اس کے بیٹے، ہوٹل کے عملے اور پانچ سے چھ دیگر افراد لوہے کی سلاخوں اور ہتھیاروں سے لیس تھے۔

سلام نے دعویٰ کیا کہ شہسوار نے انہیں کاکا کو مار دینے کا کہا، جس پر بختیار نے کاکا پر لوہے کی سلاخ سے حملہ کر دیا۔ کاکا کے زخمی دوستوں نے اپنے بھائی کو بتایا کہ انہوں نے اسے بچانے کی بہت کوشش کی لیکن پھر ہوٹل کے مالک شاہسوار نے انہیں بھی حملہ کر کے زخمی کر دیا۔

سلام نے دعویٰ کیا کہ بلال اور اس کے دوست زخمی ہوئے تو مسلح افراد نے فائرنگ کی، جس سے وہاں خوف و ہراس پھیل گیا۔ بعد ازاں مسلح افراد نے کاکا کی موت کی تصدیق کی۔

پولیس کا مؤقف

پولیس نے مقدمے میں نامزد ملزم شہسوار کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ اس کے بیٹے ملہار اور بختیار سمیت دیگر ملزمان تاحال مفرور ہیں، جن کی گرفتاری کیلئے کارروائی جاری ہے۔

شرپسند عناصر حیدرآباد واقعے کو ایشو بنانا چاہتے ہیں، ناصر حسین شاہ

صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ کا کہنا ہے کہ دو روز قبل حیدرآباد میں بلال نامی نوجوان کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور حالات پُرامن ہیں۔

سماء کے پروگرام 7 سے 8 میں گفتگو کرتے ہوئے ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ بلال کے قتل کے واقعے کو شرپسند عناصر نے ایشو بنانے کی کوشش کی مگر اس وقت سب لوگ پُرامن ہیں۔

ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ سہراب گوٹھ میں بھی ایک افسوسناک واقعہ ہوا، کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ اس کو بنیاد بنا کر تنازع کھڑا کیا جائے، لیکن ایسا نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں ہے کہ پولیس نے بروقت کارروائی نہیں کی، کارروائی بھی ہوئی اور گرفتاریاں بھی کی گئیں، مگر سوشل میڈیا پر افواہیں پھیلائی جارہی ہیں جبکہ اصل واقعہ کچھ اور ہے۔

ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ جو شرپسند عناصر ان واقعات میں ملوث ہیں وہ چاہے کوئی بھی زبان بولنے والے ہوں، ان کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے میڈیا سے بھی اپیل کی کہ واقعات پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرکے سوشل میڈیا پر چلنے والی جعلی ویڈیو کو اجاگر نہ کرے، لیکن ساتھ میں یہ یقین دہانی بھی کی کہ ملوث افراد کیخلاف قانونی کارروائی کریں گے۔

صوبائی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ مقتول بلال کے قاتل گرفتار ہوچکے ہیں اور واقعے کی انکوائری بھی جاری ہے۔

Comments (0)
Add Comment