پنجاب اسمبلی میں قائد ایوان کے انتخاب کیلئے ووٹنگ جاری

 لاہور : پنجاب  میں وزارتِ اعلیٰ کا تاج کس کے سر سجے گا؟ صوبائی اسمبلی کا اجلاس تقریباً پونے تین گھنٹے کی تاخیر کے بعد شروع ہوگیا جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے ووٹنگ جاری ہے۔

وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لئے پنجاب اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کی صدارت شروع ہوا، اجلاس کے دوران حمزہ شہباز، پرویز الٰہی موجود ہیں۔

پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے لیے گھنٹیاں بجائی گئیں جس کے ق لیگ اور پی ٹی آئی کے ایم پی ایز ایوان میں پہنچ گئے تاہم 3 گھنٹے سے زائد وقت گزرنے کے بعد اجلاس شروع ہوا۔

اجلاس کے دوران پی پی 7 کہوٹہ سے مسلم لیگ ن کے منتخب ہونے والے راجہ صغیر نے ایوان میں حلف لیا۔

 پنجاب اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے پر ن لیگ کے چیف وہپ خلیل طاہر نے پی ٹی آئی کے نو منتخب اراکین اسمبلی زین قریشی اور شبیر گجر پر اعتراض کیا اور مطالبہ کیا کہ دونوں ارکان کو ایوان سے باہر نکالا جائے۔

 ن لیگی  رہنما کا کہنا تھاکہ زین قریشی نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ نہیں دیا، پنجاب اسمبلی میں ووٹ نہیں ڈال سکتے ۔ شبیر گجر کا الیکشن کمیشن میں کیس چل رہا ہے، ووٹ نہیں ڈال سکتے۔

اس اعتراض کے جواب میں پی ٹی آئی کے راجہ بشارت کا کہنا تھاکہ الیکشن کمیشن نے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے لہٰذا شبیر گجر ووٹ کاسٹ کر سکتے ہیں۔

ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے ن لیگ کا اعتراض مسترد کر دیا اور رولنگ دی کہ دونوں ارکان ووٹ ڈال سکتے ہیں۔

 نمبر گیم

پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے اور ق لیگ کے 186 ممبران پنجاب اسمبلی میں موجود ہیں۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن کا بھی کہنا ہے کہ ہمارے نمبرز پورے ہیں اور ہم ایوان کے اندر پہنچ کر بڑا سرپرائز دیں گے۔ ن لیگ کی کورونا سے متاثرہ رکن اسمبلی عظمیٰ قادری بھی کورونا ڈریس پہن کر اسمبلی پہنچ گئی ہیں۔

مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں نے حمزہ شہباز جبکہ پی ٹی آئی اور ق لیگ نے پرویز الہیٰ کو امیدوار نامزد کیا ہے۔

پی ٹی آئی کے 15 ارکان اسمبلی کے حلف اٹھانے کے بعد ایوان میں تحریک انصاف کے کُل ممبران تعداد 178 ہوگئی ہے، جبکہ مسلم لیگ ق کے ارکین کی تعداد 10 ہے۔ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ق کے اراکین کو ملا کر تعداد 188 ہے جبکہ ایک رکن اسمبلی بیرون ملک میں ہیں۔

پی ٹی آئی اور ق لیگ نے دعویٰ کیا کہ عمران خان اور پرویز الہیٰ کی سربراہی میں ہونے والے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں 186 ارکان شریک ہوئے اور انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کیلیے پرویز الہیٰ کی حمایت کا اعلان کیا۔

مسلم لیگ ن کے تین ارکان اسمبلی کے حلف کے بعد حکومتی اتحادی اراکین کی مجموعی تعداد 178 ہے جبکہ دو ارکان فیصل نیازی اور جلیل شرقپوری مستعفی ہو چکے ہیں۔ اسمبلی میں موجود آزاد اراکین کی تعداد 6 ہے۔

عددی لحاظ سے تحریک انصاف کی بظاہر برتری نظر آرہی ہے مگر مسلم لیگ (ن) اور پی ڈی ایم جماعتیں بھی حمزہ شہباز کی فتح کے لیے پُرامید ہیں۔

Comments (0)
Add Comment