قومی اسمبلی میں دوسرا نیب ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور

قومی اسمبلی میں دوسرا نیب ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت آج ہونے والے اجلاس میں نیب (دوسری ترمیمی) بل 2022  کثرت رائے سے منظور کیا گیا ہے۔

ترامیم کے بعد احتساب عدالت کے ججوں کی تقرری سے متعلق صدر کا اختیار بھی واپس لے لیا گیا ہے جبکہ احتساب عدالتوں کے ججز کی تقرری کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس رہے گا۔

ترمیم شدہ بل کے مطابق نیب 5 سو ملین روپے سے کم کے کرپشن کیسز کی تحقیقات نہیں کر سکے گا جبکہ پراسیکیوٹر جنرل نیب کی مدت ملازمت میں 3 سالہ توسیع کی جا سکے گی۔

اسکے علاوہ نیب قانون کے سیکشن 16 میں بھی ترمیم کر دی گئی ہے جس کے مطابق کسی بھی ملزم کے خلاف اسی علاقے کی احتساب عدالت میں مقدمہ چلایا جا سکے گا جہاں جرم کا ارتکاب کیا گیا ہو۔

Comments (0)
Add Comment