کوئٹہ میں تیزاب حملے کا نشانہ بننے والی خاتون ڈاکٹر ماہنور کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔ کراچی کے نجی ہسپتال میں زیرِ علاج ڈاکٹر ماہنور کا اتوار کے روز ماہر پلاسٹک سرجنز اور ماہرینِ چشم نے تفصیلی معائنہ کیا، جس کے بعد انہیں اسپیشل کیئر یونٹ منتقل کر دیا گیا ہے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق، حملے میں ان کا جسم 13 فیصد تک جھلسا ہے جس سے چہرہ، پیٹ، رانیں اور دایاں ہاتھ متاثر ہوئے ہیں، تاہم خوش قسمتی سے ان کی بینائی اور دیگر اہم اعضا مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ ڈاکٹرز اگلے 24 گھنٹوں میں ان کا دوبارہ طبی معائنہ کریں گے۔
دوسری جانب، واقعے کے وقت ڈاکٹر ماہنور کو بچانے کی کوشش میں زخمی ہونے والا نوجوان کوئٹہ کے ہسپتال میں زیرِ علاج ہے، جس کی بہادری کو سراہتے ہوئے بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی نے فون پر اس کی خیریت دریافت کی۔ پولیس کے مطابق، اس بزدلانہ حملے کا مرکزی ملزم ہمایوں شاہ نوشکی بس اسٹاپ کے